حقیقی جمہوریت کیسے لائیں؟

اداریہ
پاکستان روز اول سے ہی اس کوشش میں ہے کہ یہاں حقیقی جمہوریت لائی جائے۔ چنانچہ بنیادی جمہوریت سے لے کر شورائی جمہوریت تک مختلف انواع و اقسام کے تجربات کئے جا چکے ہیں۔ون یونٹ کا تجربہ بھی کیا جا چکاہے،جو بری طرح ناکام رہا اورآج اس تجربے کوملک دولخت ہونے کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔لیکن جمہوریت تو200سال بعدبھی امریکہ میں ایک سوالیہ نشان بنی ہو ئی ہے۔ گورے کالوں کواپنے سے کمتر مخلوق سمجھتے ہیں چند ہفتے قبل ایک سیاہ فام کی ویڈیو میں سفید فام پولیس افسر سے یہ التجاء کرتے دیکھا گیا کہ ”میرے لئے سانس لینا مشکل ہو رہاہے!“ مگرگورے پولیس افسر نے سیاہ فام ملزم کی گردن پر اپنے گھٹنے کا دباؤ کم نہیں کیا اور اس کی موت واقع ہوگئی۔دوصد سالہ جمہوریت امریکی پولیس کو یہ نہیں سکھا سکی کہ سیاہ فام انسان ہیں عالمی قوانین کے تحت مساویانہ شہری حقوق حاصل ہیں۔اس تلخ حقیقت کے باوجود دنیا کے دانشور وں کی بھاری اکثریت یہی کہتی ہے کہ
”بدترین جمہوریت، بہترین آمریت سے بہتر ہے“
اس کے معنے یہی ہوسکتے ہیں کہ یہ دانشوراپنے علم اور بصیرت کی بنیاد پر یقین رکھتے ہیں ایک دن یہ پارلیمنٹ ایسی قانون سازی پر مجبور ہو جائے گی جو عوام کے حقیقی نمائندوں کے لئے پارلیمنٹ کی رکنیت حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی60فیصد آبادی خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے؛ چنانچہ آبادی کے اتنے بڑے حصے کاموجودہ پارلیمنٹ کے انتخابات سے ایک پلیٹ بریانی کا رشتہ ہے۔جو امیدوار جتنے ووٹرز کو بریانی کی پلیٹیں کھلا سکتا اتنے ووٹ اس کے حق میں پڑ جاتے ہیں۔باقی کسر الیکشن کمیشن پوری کر دیتا ہے۔ریٹرننگ افسر کے پاس جادوئی طاقت ہے۔انتخابات کو ایک ڈھونگ ثابت کرنے کے لئے پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کا قومی اسمبلی کے فلور پر دیا گیا بیان کافی ہے؛ انہوں نے پارلیمنٹ کے تمام اراکین کو خبردار کیا تھا کہ”کوئی رکن اسمبلی ایسا نہیں جس کے بیلٹ بکس میں 50ہزار جعلی ووٹ نہ ڈالے گئے ہوں“۔یہ جعلسازی کے نتیجے میں جیتنے والے خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے مسائل حل کر نے میں کیوں دلچسپی لیں گے؟
آئین میں ترمیم کے لئے پارلیمنٹ دو تہائی ووٹ درکار ہیں،اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ پاکستان کے 22کروڑ عوام کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا اختیارجنرل سیٹ پر منتخب ہونے والے182اراکین قومی اسمبلی کے پاس ہے اور یہی ملک کے تما م وسائل کے بھی مالک ہیں۔یہ کو ئی راز نہیں سب جانتے ہیں انتخابات میں عوام کے ووٹ کی توقیر پامال کی جاتی ہے۔سیاسی جماعتوں کی طرف سے بلند کیا جانے والا یہ نعرہ کہ ”ووٹ کو عزت دو“ بھی وہ معنے نہیں رکھتا جو اصل میں ہونے چاہئیں۔یہ نعرہ وہ جماعت اس وقت لگاتی ہے جب اس کے وزیر اعظم کوپانامہ کیس میں اقامہ ڈیکلئر نہ کرنے کے جرم میں وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کا فیصلہ سناتی ہے۔ پانامہ کیس کا فیصلہ آنا ابھی باقی ہے جو حدیبیہ پیپر مل کے حوالے سے دیئے گئے ایک فیصلے کی وجہ سے وقتی طور پر پس منظر میں چلا گیا ہے۔ اس ضمن میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ پلی بارگیننگ کی پابندی ہٹا دے تو لوٹی ہوئی ساری رقم قومی خزانے میں واپس آسکتی ہے۔اس جملے سے یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ مجرم اپنی کھال بچانے کے لئے (لوٹا ہوا)مال دینے کے لئے آمادگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ چنانچہ پانامہ کیس زندہ ہے اور کسی لمحے اس کے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ ووٹ کی ”عزت“ کب؟ اور کس کے ہاتھوں پامال ہوتی ہے؟ اس کا صرف ایک جواب دیا جاسکتا ہے کہ ووٹ کی ”عزت“ پولنگ کے دن پامال کی جاتی ہے اور ہر وہ رکن قومی (اور صوبائی اسمبلی بھی) جس کے بیلٹ بکس سے جعلی ووٹ ڈالے جاتے ہیں، اور متعلقہ ریٹرننگ افسر اوراس کا عملہ اس جرم کے نہ صرف عینی شاہد ہوتے ہیں بلکہ سہولت کار بھی ہوتے ہیں جیسا کہ 2013کے انتخابات میں ایک ووٹر نے 70بارووٹ ڈالا تھا اور اس کے شواہدسامنے آچکے ہیں۔ اور بعض امیدواروں کے ووٹوں کا ریکارڈ فراہم کرنے کی بجائے بوریوں میں ردی اخبارات تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش کئے تھے۔یہ تفصیلات سامنے آنے کے باوجودکمیشن نے جو فیصلہ دیا وہ انتخابی جرائم کے خاتمہ میں کسی طور مدد گار نہیں ہوا۔ورنہ 2018کے انتخابی نتائج پارلیمان کے لئے گالی کا درجہ اختیار نہ کرتے اور وزیر اعظم کو حلف برداری کے فوراً بعدselectedوزیر اعظم کہنے کی کسی میں ہمت نہ ہوتی۔ان شرمناک حقائق سے آنکھیں چرانا عوام دشمنی کے مترادف ہے۔ ”ووٹ کی عزت“پامال کرنا سنگین اخلاقی اور قومی جرم قرار دیا جائے۔ متعلقہ امیدوار کواس جرم کی 5سال قید اور ایک کروڑ جرمانہ اور تاحیات نااہلی کی سزا دی جائے۔اس کے علاوہ اسے سرکاری اداروں میں ملازمت یا ٹھیکیداری کے لئے بھی تاحیات نااہل قرار دیا جائے۔ دوسری جانب انتخابی قوانین کی اصلاح کی جائے۔ان میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی ہو چکی انہیں ممکنہ حد تک دور کیا جائے۔جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا کا تمام کاروباری نظام کامیابی سے چل رہاہے تو پاکستان کے ووٹرز پر اس کا استعمال ممنوعہ کیوں ہے؟الیکشن اخراجات کی سطح کم کی جائے۔ سوشل میڈیا جیسی سہولت سے استفادہ کیا جائے۔جعلی ووٹ ڈالنے کے تمام راستے بند کئے جائیں تاکہ پولنگ کے روز ووٹ کا تقدس پامال کرنے کے بارے میں کوئی سیاستدان، انتخابی عملہ اور ریٹننگ افسر سوچنے کی ہمت نہ کر سکے۔ اس کے بغیر پاکستان میں حقیقی جمہوریت نہیں آئے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں