نوکنڈی میں سیکورٹی اہلکار کی فائرنگ سے ڈرائیور کے قتل کیخلاف شٹر ڈاﺅن، لواحقین کا مرکزی شاہراہ پر دھرنا
نوکنڈی (نامہ نگار) نوکنڈی کے نواحی علاقے وشاپ میں سیکورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے ایک زمباد گاڑی کا ڈرائیور جاں بحق ہوگیا، جس کیخلاف شہر میں شٹر ڈاﺅن ہڑتال اور کوئٹہ تفتان قومی شاہراہ پر پہیہ جام جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق، نوکنڈی سے سات خالی زمباد گاڑیاں وشاپ کی طرف روانہ تھیں کہ اچانک سیکورٹی فورسز کی جانب سے ایک گاڑی پر مبینہ فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ڈرائیور شاہ در مندازئی مینگل کو گولیاں لکنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ جاں بحق ڈرائیور کے لواحقین نے میت کے ہمراہ احتجاجاً بابِ عمر کے مقام پر دھرنا دے دیا، جس سے قومی شاہراہ کی دونوں سمتوں سے آمدورفت مکمل طور پر معطل ہوچکی۔ دھرنا گزشتہ شب سے تاحال جاری ہے اور شاہراہ کے دونوں اطراف گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ چکی ہیں۔ واقعے کے بعد ڈسٹرکٹ چیئرمین عبدالودود خان سنجرانی، معروف سیاسی رہنما حاجی عرض محمد بڑیچ، اسسٹنٹ کمشنر تفتان اور ایس ایچ او نوکنڈی کی جانب سے لواحقین کے ساتھ مذاکرات کے متعدد دور کیے گئے، تاہم کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک فائرنگ میں ملوث اہلکار کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں نہ لایا جائے۔ ان کا مو¿قف ہے کہ انصاف کے بغیر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ ادھر شہر میں مکمل شٹر ڈاﺅن ہڑتال جاری ہے، عوامی حلقوں اور تاجروں نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے لواحقین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب، سیکورٹی فورسز نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔


