آغاز حقوق بلوچستان سے اب تک کوئی وعدہ پورا نہیں ہوا، شہریوں کے قتل عام کو روک کر امن بحال کیا جائے، امن جرگہ

کوئٹہ (آن لائن) پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹری جنرل سیف اللہ خالد، سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق ، ادریس مغل، قاری محمد یعقوب شیخ، شفیق الرحمن وڑائچ و دیگر قبائلی و سیاسی رہنماﺅں نے کہا کہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت اور دہشت گردی کی روک تھام اور اس کے سدباب کے لئے اقدامات اٹھاتے ہوئے لسانی، صوبائیائیت اور علاقائیت کی بنیاد پر شہریوں کے قتل عام کو روک کر امن کی بحالی کو یقینی بنایا جائے اور صوبے کے لوگوں کو آئینی حقوق فراہم کرکے لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ صو بے میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر بنایا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ کے نجی ہوٹل میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام منعقدہ ”امن جرگہ “کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین نے حب الوطنی کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان میں امن وامان کے قیام کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں تمام راستوں کو کلیئر کرنا اور انہیں محفوظ بناکرعوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے تاکہ لوگوں کی محفوظ آمد و رفت کو ممکن بنایا جاسکے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔بلوچستان کو سیاسی اور معاشی معاملات میں آئینی حقوق اور صوبے کے تمام فیصلے منتخب نمائندوں کو کرنے کا مکمل اختیار دیا جائے۔بلوچستان میں گالی، گولی اور سختی کی پالیسی کو ترک کیا جائے اور چیک پوسٹوں پر عوام کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔گوادر سے چمن تک بارڈر کی بندش کے باعث 30 لاکھ افراد بے روز گار ہو چکے ہیں انہیں باعزت روز گار فراہم کیا جائے۔لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے تاکہ ان کے پیاروں کو ذہنی اذیت اور کرب سے چھٹکارا مل سکے۔ آئین پاکستان میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دیکر ان پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں تاکہ آزاد وطن میں حقیقی آزادی کو فروغ مل سکے اغوا کاروں، بھتہ خوروں ، لینڈ مافیا اور منشیات فروشوں کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کرکے ان کی سر پرستی بند کی جائے۔بلوچستان سے متعلق تمام اہم امور، بشمول گیس، ریکوڈک اور ساحل و وسائل سے متعلق معاہدات عوام کے سامنے لائے جائیں اور بلوچستان کے مسائل کو اولین ترجیح دی جائے۔حقوق بلوچستان کے آغاز سے آج تک کوئی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ حکومت وقت سے مطالبہ ہے کہ بلوچستان کو اس کے حقوق دیے جائیں اور کئے گئے وعدے وفا کیے جائیں۔بلوچستان میں سی پیک کے فیزون اور فیز ٹو کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔امن جرگہ حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کیلئے ایک با اختیار کمیٹی قائم کرے جو تمام مسائل کا حل تلاش کرکے اس کا پر امن حل ممکن بنائے۔ امن جرگہ بلوچستان کی تمام مذہبی، سیاسی جماعتوں اور تنظیموں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہے کہ اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی پیدا کریں، تا کہ ہم سب مل کر پاکستان کو درپیش چیلنجز کا منظم اور متفق ہو کر مقابلہ کر سکیں۔ ہم اتحاد کے ذریعے ہی کامیابیاں اور کامرانیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم کوئی ہجوم نہیں، بلکہ ایک امت ہیںاور ایک امت بن کر وحدت کے ساتھ ، اسلام اور وطن عزیز پاکستان کے لیے جد و جہد کریں۔ صوبائی و وفاقی حکومتوں سے مطالبہ ہے کہ بلوچستان کو امن وامان کی دولت سے مالامال کیا جائے کیونکہ اس صوبے کا امن دراصل پاکستان کا امن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں