8اگست وکلاواقعے کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے، پشتونخواہ نیپ
کوئٹہ(یو این اے )پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں سانحہ 8 اگست 2016 کو ایک عظیم قومی المیہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس سانحہ کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس افسوسناک دن کوئٹہ بار کے 74 ممتاز وکلا ایک دہشتگرد حملے میں شہید اور 100 سے زائد شدید زخمی ہوئے، جس کے نتیجے میں پشتون بلوچ عوام اپنے سینئر وکلا سے محروم ہو گئے۔بیان کے مطابق شہید ہونے والوں میں بلال انور کاسی، باز محمد کاکڑ، قاہر شاہ، سنگت جمالدینی، عدنان کاسی، عسکر خان اچکزئی، ایمل خان وطنیار اور دیگر شامل تھے جنہوں نے آئین و قانون کی بالادستی اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔اس المناک واقعے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 54 دنوں میں 110 صفحات پر مشتمل جوڈیشل رپورٹ تیار کی گئی جس میں واضح طور پر سانحہ کو ریاستی دہشتگردی قرار دیا گیا اور ملک میں ہونے والے ہزاروں دہشتگردی کے واقعات کی اصل ذمہ داری سیکورٹی اداروں پر عائد کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان تنظیموں کو حکومتی وزرا اور سیکورٹی اداروں کی پشت پناہی حاصل رہی۔بیان میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ نہ سپریم کورٹ نے رپورٹ پر عملدرآمد کیا اور نہ ہی سیکورٹی اداروں نے کوئی سنجیدہ اقدام اٹھایا۔ اسی بے عملی کا نتیجہ ہے کہ آج بھی پشتونخوا وطن میں دہشتگردی کے واقعات اور ریاستی جبر جاری ہے، ہزاروں بے گناہ عوام کا خون بہایا گیا اور 21 فوجی آپریشنوں کے بعد 22 واں آپریشن تاحال جاری ہے جس کا مقصد پشتون عوام کو ان کے علاقوں سے بے دخل کرنا ہے تاکہ معدنیات، جنگلات اور زرخیز زمینوں پر قبضہ قائم کیا جا سکے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ فائز عیسی رپورٹ کی سفارشات پر فوری اور مکمل عملدرآمد کیا جائے اور وکلا برادری کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں تاکہ عدل و انصاف کی بحالی ممکن ہو سکے۔


