حالت جنگ ہو یا امن، فوج عوام کے ساتھ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

ویب ڈیسک : وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور چیئرمین این ڈی ایم اے نے پریس کانفرنس کے دوران سیلابی صورتحال پر گفتگو کی۔وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ملک کے 3 دریاو¿ں میں اس وقت سیلابی صورتحال ہے، پیچھے سے جو ریلا آیا اس سے دریائے ستلج میں گندھارا سے ہیڈ خانکی کی طرف پانی کا بہاو¿ بڑھ گیا ہے اور اس وقت 10 لاکھ کیوسک کا ریلہ موجود ہے جب کہ قادر آباد کی طرف پانی کا بہاو¿ بڑھے گا جس کے وجہ سے اس مقام سے لوگوں کا انخلا ناگزیر ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے نے پی ڈی ایم اے اور مقامی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور انہیں صورتحال سے آگاہ کررہے ہیں تاکہ لوگوں کا بروقت انخلا ممکن بنایا جاسکے۔وزیراعظم نے بھی اجلاس کی صدارت کی اور انہوں نے ہدایات جاری کی ہیں پیشگی اطلاع کے سلسلے کو مزید بہتر کیا جائے اور ریلیف کے کام کو بھی تیز کیا جائے، این ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرین کے لیے خیمے اور دیگر اشیائے ضروریہ فراہم کی جارہی ہے۔چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 300 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی جسے ہم رات سے مانیٹر کرتے رہے، اسی طرح سیالکوٹ کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں 600 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ آئندہ دو روز میں ممکنہ صورتحال کے پیش نظر پوری طرح تیار ہیں، لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، نارووال میں مزید بارشیں متوقع ہیں جب کہ دریائے سندھ میں اس وقت پانی کا بہاو معمول کے مطابق ہے۔انہوں نے کہا کہ ہیڈ خانکی میں 10 لاکھ کیوسک ریلہ موجود ہے جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں خانکی اور قادر آباد کے درمیان مزید طغیانی آئے گی، ہم صورتحال کو قابو میں کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں، جس کی وجہ سے پنجاب کے دریاو¿ں میں دباو¿ بڑھے گا جب کہ جموں میں فلش فلڈ اور بادل پھٹنے سے نقصان ہوا، شدید بارشوں سے دریاو¿ں میں طغیانی آئی۔لیفٹننٹ جنرل انعام حیدر کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، چیف سیکریٹریز ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیںجب کہ فیلڈ مارشل کی ہدایت کے مطابق تمام ملٹری فارمیشنز اپنے اپنے علاقوں میں عوام اور پی ڈی ایم اے کے ساتھ ملکر لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تک دریائے ستلج کے اطراف 2 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور اب تک کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ہم سندھ حکومت کے ساتھ بھی معلومات شیئر کریں گے، کوٹری یا گدو بیراج پر جو دباو¿ آئے گا اور اسی طرح وہ علاقے جن میں انخلا کی ضرورت ہوگی، وہ ڈیٹا پی ڈی ایم اے سندھ کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ سیلابی صورتحال کے باوجود ہماری ورکنگ باو¿نڈری اور بارڈر ہے ، وہاں پر کڑی نگرانی کی جارہی ہے اور پاکستان کے عظیم وطن کے دفاع کے لیے کسی بھی پوسٹ کو خالی نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان امدادی کاموں کے علاوہ فوج، ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خیبرپختونخوا میں مکمل طور پر خارجیوں اور دہشت گردوں کے خلاف امن قائم کرنے کے لیے آپریشن اسی طرح جاری ہیں، اس میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی تاکہ وہ ایسے وقت میں جب خیبرپختونخوا کی عوام مشکل میں ہے تو وہ کسی قسم کا فائدہ نہ اٹھاسکیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حالت جنگ ہو یا امن، پاک فوج عوام کے ساتھ ہے، چاہے وہ پاکستان کے کسی بھی کونے میں ہوں، عوام اور پاکستانی فوج اکھٹے تھے، ہیں اور رہیں گے، ان کے درمیان کوئی بھی باطل قوت دراڑ نہیں ڈال سکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں