بلوچستان اسمبلی میں مائنز اینڈ منرل ایکٹ پر حکومت و اپوزیشن کا اتفاق، ترامیم کے ساتھ بل دوبارہ لانے کا فیصلہ
کوئٹہ(این این آئی) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر عملدآمد کو ایگزیکٹو آرڈ کے ذریعے روک دیا ہے ، اپوزیشن، سیاسی جماعتوں ، سول سائٹی سے مشاورت کے بعد ایکٹ میں ترمیم لائے جائےگی ۔یہ بات انہوں نے منگل کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری سمیت دیگر کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ چند ماہ قبل اسمبلی نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ منظور کیا تھا جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں ،مائن اونرز،سول سوسائٹی نے اعتراضات کیے تھے میں نے ایوان میں کہا تھا کہ ہم اس پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں گزشتہ روز سیاسی جماعتوں نے نشست کی ہے جس کے بعد سیاسی جماعتوں کی کمیٹی کے ارکان میرے پاس آئے تھے ہم نے مشاورت کی ہے مائنز اینڈ منرلز کا ایکٹ ترمیم کے لیے دوبارہ اسمبلی میں لا رہے ہیں تاکہ خدشات کو دور کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ بلوچستان کے حقوق کے جتنے بھی کام ہوں ان پر اتفاق رائے پیدا ہو ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے قانون پر عملدآمد کو روک دیا ہے اپوزیشن قانون کے حوالے سے قرارداد لائے گی جس کے بعد کابینہ ترمیم کر کے اسے اسمبلی میں لائےگی جس کے بعد اسے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر کے قانون کی تمام شقوں پر بحث کی جائےگی ہم دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ مل بیٹھ کر جتنا ممکن ہوسکے اتفاق رائے پیدا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد بلوچستان میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ بنا ہی نہیں تھا اب ہم نے ایکٹ بنا لیا ہے اس میں مزید ترامیم کی جائیں گی ۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے محسوس کیا کہ مائنز اینڈ منرلز قانون پر سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو خدشات تھے یہ حرف آخر نہیں کہ جسے تبدیل کیا جاسکے ۔ وزیراعلیٰ نے بطور اپوزیشن لیڈر ذمہ داری دی تھی کہ سیاسی جماعتوں، مائن اونرز سے مشاورت کریں ۔ ہم نے کانفرنس بلا کر یہ طے کیا تھا کہ جو خدشات ہیں انہیں دور کرنے کے لیے ایکٹ میں ترمیم لائیں گے ۔


