سول ہسپتال کوئٹہ میں لاشوں کی حوالگی کے دوران پیسے لینے کاالزام، ایدھی فانڈیشن کے ایک رضاکار نے پیسے وصول کیے تھے، ایم ایس
کوئٹہ(یو این اے )میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول ہسپتال کوئٹہ ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ نے کہا ہے کہ دہشتگردی واقعے کے بعد لاشوں کی حوالگی کے دوران مبینہ طور پر لواحقین سے رقم لینے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے محکمہ صحت بلوچستان نے باقاعدہ انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ انہوں نے یہ بات سول ہسپتال میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ڈاکٹر ہادی کاکڑ نے بتایا کہ صوبائی وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی ہدایت پر واقعے کی مکمل تحقیقات کی گئی ہیں۔ تحقیقات کے مطابق، حادثے کے بعد سول ہسپتال منتقل کی گئی لاشوں میں سے دو، جو باپ بیٹے کے طور پر شناخت ہوئیں، کی حوالگی کے وقت ایدھی فانڈیشن کے ایک رضاکار نے پیسے وصول کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی انکوائری میں مذکورہ رضاکار نے پیسے لینے کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم اس غیر اخلاقی عمل کی وجہ سے محکمہ صحت پر بلاجواز الزامات عائد کیے گئے، حالانکہ صحت عملے کا کردار صرف فارنزک تصدیق اور قانونی کارروائی میں پولیس کی معاونت تک محدود تھا۔ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ نے واضح کیا کہ ایدھی فانڈیشن ایک فلاحی ادارہ ہے جس کی خدمات قابلِ ستائش ہیں، مگر کسی ایک فرد کے غلط اقدام کی وجہ سے پورے ادارے کو بدنام کرنا ناانصافی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد ایدھی فانڈیشن کی سول ہسپتال میں سروسز وقتی طور پر معطل کر دی گئی ہیں، جبکہ آئندہ تمام فلاحی تنظیموں کے لیے جامع ایس او پیز تیار کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک المناک سانحے کے بعد لواحقین سے رقم لینا انسانی ہمدردی اور طبی اخلاقیات کے سراسر منافی ہے، اور ایسے اہلکار یا معاونین جو بھی ملوث پائے گئے، ان کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


