بلوچستان میں ادائیگیوں اور ریکارڈ کا نظام مکمل ڈیجیٹلائز ہوگیا سالانہ 20 کروڑ کی بچت ہوگی، وزیراعلی کو بریفنگ

کوئٹہ (آن لائن) وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں مالیاتی نظم و نسق کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ مالیاتی امور کی انجام دہی کے پرانے نظام کو ختم کرتے ہوئے ادائیگیوں اور ریکارڈ کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے جو شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی میں بہتری کے ایک نئے دور کا آغاز ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز محکمہ خزانہ کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سیکرٹری خزانہ عمران زرکون نے مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ آف ٹریڑری کو تحلیل کرتے ہوئے ڈھائی سو سے زائد ملازمین کو ایس اینڈ جی اے ڈی میں منتقل کردیا گیا ہے۔ چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں اضافی اسٹاف کے خاتمے کے بعد اب محکمانہ اصلاحات کے عمل کو محکمہ خزانہ تک بڑھا دیا گیا ہے ڈائریکٹوریٹ آف ٹریڑری کے روزمرہ امور کی تنظیمِ نو سے صوبے کو سالانہ تقریبا 20 کروڑ روپے کی بچت متوقع ہے وزیر اعلی نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن عوام کی امانت ہے اور اس کا ایک ایک روپیہ درست سمت میں خرچ کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ مالیاتی ادائیگیوں کی آن لائن منتقلی بدعنوانی کے خاتمے کی جانب ایک انقلابی قدم ہے جس سے سرکاری ادائیگیوں میں غیر ضروری تاخیر اور مداخلت کا خاتمہ ہوگا انہوں نے کہا کہ ٹریڑری نظام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن سے شفافیت، جوابدہی اور موثر مالی نظم کو فروغ ملے گا بلوچستان میں مالیاتی اصلاحات کے اس تسلسل سے نہ صرف ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ صوبے کے وسائل کے موثر استعمال کو بھی یقینی بنایا جائے گا وزیر اعلی بلوچستان نے مالیاتی امور میں شفافیت اور ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی کی کاوشوں کو سراہا اور ان کی کارکردگی پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے انہیں شاباش دی چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے سیکرٹری خزانہ عمران زرکون اور ان کی ٹیم کی جانب سے نظام میں بہتری کے جلیے کی گئی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کو سراہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں