علی امین کے استعفے کا معاملہ، آئینی بحث شدت اختیار کرگئی، وزات اعلیٰ کیلئے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے

پشاور (انتخاب نیوز) علی امین گنڈاپور کے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے عہدے سے استعفے اور نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب سے متعلق آئینی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی حلقے اس کشمکش میں ہیں کہ کیا موجودہ وزیراعلیٰ کا استعفا قبول ہوئے بنا نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب کیا جاسکتا ہے؟ اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں نے مو¿قف اپنایا ہے کہ موجودہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفا جب تک باضابطہ طور پر گورنر منظور نہیں کرتے، اس وقت تک نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر آئینی تصور کیا جائے گا۔ جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر مولانا لطف الرحمٰن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ گورنر نے ابھی تک استعفا منظور نہیں کیا، اس لیے نیا انتخاب غیر قانونی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسپیکر انتخابی شیڈول کا اعلان کرتے ہیں تو اپوزیشن آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اس عمل میں حصہ لے گی، تاہم ان کی رائے میں انتخابی عمل کو استعفے کی منظوری تک مو¿خر کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور استعفا دے چکے ہیں، اور آئین کے مطابق جب کوئی وزیراعلیٰ استعفا دے دیتا ہے تو وہ استعفیٰ تصور کیا جاتا ہے۔ سابق اسپیکر مشتاق غنی نے بھی اسی مو¿قف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں استعفے کی منظوری یا مسترد کرنے کا کوئی تصور موجود نہیں، اگر گورنر استعفا منظور کیے بغیر اسے طویل عرصے تک روکے رکھیں تو یہ آئینی عمل کو غیر مو¿ثر نہیں بنا سکتا۔ ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل نے بھی وزیراعلیٰ کے انتخاب کو آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 130 کے تحت وزیراعلیٰ کا استعفا ایک ذاتی اقدام ہے جس کے لیے کسی باضابطہ منظوری کی شرط نہیں رکھی گئی۔ ادھر اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایک موجودہ وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے نیا وزیراعلیٰ منتخب کرنا غیر آئینی اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی نہ کابینہ تحلیل ہوئی ہے اور نہ ہی گورنر کی جانب سے استعفا منظور کیا گیا ہے، اس لیے نیا انتخاب کسی بھی صورت آئینی حیثیت نہیں رکھتا۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے انتخاب کے لیے تحریک انصاف، مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی (ف) کے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے۔ خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا وقت اب ختم ہوگیا ہے اور تحریک انصاف، مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی (ف) کے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے ہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے سہیل آفریدی، ن لیگ کی جانب سے سردار شاہ جہاں یوسف، جے یو آئی (ف) سے مولانا لطف الرحمان جبکہ پیپلزپارٹی کی جانب سے ارباب زرک نے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ تمام امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی سیکرٹری خیبرپختونخوا اسمبلی کے پاس جمع کرائے گئے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے کسی نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے اور اس حوالے سے ترجمان اے این پی انجینئراحسان اللہ نے کہا کہ کل اسمبلی اجلاس میں وزیراعلیٰ کےانتخاب میں حصہ نہیں لیں گے۔ انجینئراحسان اللہ نے کہا اے این پی کسی ہارس ٹریڈنگ کا حصہ نہیں بنے گی تاہم ہماری پارٹی پی ٹی آئی کے نامزد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حق میں بھی نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں