کراچی،سہراب گوٹھ میں افغان مہاجرین کے خالی کیے گئے 3 ہزارگھروں کو منہدم کرنے کا آپریشن جاری، ڈی آئی جی غربی
ڈپٹی انسپکٹر جنرل ( ڈی ائی جی ) غربی عرفان علی بلوچ کے مطابق سہراب گوٹھ میں افغانوں کے خالی کیے گئے گھروں کو منہدم کرنے کے لیے ایک بڑا آپریشن شروع کیا گیا ہے، تاکہ غیر قانونی قبضہ کرنے والے عناصر کو سرکاری زمین پر قبضہ کرنے سے روکا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ یہ زمین سہراب گوٹھ کے قریب افغان کیمپ میں واقع ہے، جو 200 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے، جہاں افغانوں کے 3 ہزار گھر بنے ہوئے تھے۔ڈی ائی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں پولیس حکام کو ایک خط لکھا ہے تاکہ ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جائے جس میں شہری انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل ہوں تاکہ خالی کی گئی سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضے کو روکا جا سکے۔نہوں نے کہا کہ یہ بے گھر افغانوں کا سب سے بڑا کیمپ تھا، جہاں اندازاً 30 ہزار افغان رہتے تھے جنہیں حال ہی میں وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق تین مرحلوں میں اپنے وطن واپس بھیجا گیا ہے۔ تاہم، اب بھی دو ہزار افغان وہاں رہ رہے ہیں۔ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ نے کہا کہ افغان کیمپ 200 ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا اور اس میں تین ہزار گھر تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کمشنر کراچی سے بات کی اور لینڈ مافیا کو قبضہ کرنے سے روکنے کے لیے ان گھروں کو منہدم کرنے کا آپریشن شروع کیا۔ڈی ائی جی کا کہنا تھا کہ آج 20 ایکڑ زمین پر بنے ہوئے گھروں کو گرایا گیا ہے، اور یہ آپریشن اگلے تین سے چار دن تک جاری رہے گا۔


