پاکستان کا مالی سال 2025ء میں مجموعی قرضہ 847 کھرب 90 ارب روپے تک پہنچ گیا، وزارت خزانہ
اسلام آباد (ویب ڈیسک) جی ڈی پی کے لحاظ سے قرض کا تناسب مالی سال 2025 میں 3.6 فیصد اضافے کے بعد 74.5 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جب کہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ موجودہ سال میں اسے کم کرکے تقریباً 70 فیصد تک لایا جائے گا، اور مالی سال 2028 تک یہ 63.3 فیصد تک آجائے گا۔ رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ نے ’ڈیٹ سسٹینیبلٹی اینالیسس‘ رپورٹ 28-2026 میں پیش گوئی کی ہے کہ درمیانی مدت میں عوامی قرضہ پائیدار رہے گا، جسے میکرو اکنامک استحکام اور مالیاتی نظم و ضبط کی مسلسل کوششوں سے سہارا ملے گا، تاہم مجموعی مالیاتی ضروریات سے معتدل نوعیت کا خطرہ موجود رہے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جون 2025 کے اختتام تک عوامی اور ضمانت یافتہ قرضہ جی ڈی پی کے 74.5 فیصد کے برابر تھا، جو جون 2024 کے آخر میں 70.9 فیصد تھا، یعنی ایک سال کی مدت میں 3.6 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق قرضہ برائے جی ڈی پی تناسب میں اضافے کی بنیادی وجوہات روپے کی قدر میں بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں کمی، مہنگائی میں کمی اور مہنگائی کے مقابلے میں بلند شرحِ سود ہیں، جنہوں نے حقیقی شرحِ سود کو بڑھایا۔ اس کے برعکس، حقیقی جی ڈی پی میں معمولی بہتری اور بنیادی سرپلس میں اضافہ، جی ڈی پی کے مقابلے میں ضمانت یافتہ قرضے کے تناسب میں کمی کا باعث بنے، مجموعی طور پر ملکی ضمانت یافتہ قرضہ مالی سال 2024 میں جی ڈی پی کے 46.2 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 49.8 فیصد تک پہنچ گیا، جب کہ بیرونی ضمانت یافتہ قرضہ جی ڈی پی کے تناسب کے لحاظ سے تقریباً مستحکم رہا۔ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی عوامی اور ضمانت یافتہ قرضہ 847 کھرب 90 ارب روپے (جی ڈی پی کے 74.5 فیصد) تک پہنچ گیا، جو جون 2024 میں 746 کھرب 20 ارب روپے (جی ڈی پی کا 70.9 فیصد) تھا۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق، جون 2025 کے اختتام تک کل عوامی قرضہ جی ڈی پی کے 70.8 فیصد کے برابر تھا جو مالی سال 2028 تک کم ہو کر 60.8 فیصد رہنے کی توقع ہے۔


