سوڈان میں شدید خانہ جنگی، اجتماعی پھانسیاں اور شہریوں کا قتل عام جاری، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

دارفور (مانیٹرنگ ڈیسک) سوڈان میں شدید خانہ جنگی، اجتماعی پھانسیاں اور شہریوں کا قتل عام جاری، ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور۔ سوڈانی فوج اور ریپڈ اسپورٹ فورس کے درمیان مغربی کردفان میں جھڑپیں جاری ہیں۔ بین الاقوامی خبر ایجنسیوں کے مطابق سوڈان میں جاری خانہ جنگی شدت اختیار کرگئی ہے، جبکہ مغربی دارفور کے شہر الفاشر میں انسانی المیہ سنگین صورت اختیار کرچکا ہے۔ سوڈانی فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورس (RSF) کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں، جن کے نتیجے میں سیکڑوں شہری مارے گئے اور ہزاروں گھرانے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، ریپڈ سپورٹ فورس نے الفاشر شہر پر مکمل قبضہ کرلیا ہے، جس کے بعد وہاں بڑے پیمانے پر اجتماعی پھانسیاں، نسلی بنیادوں پر قتل عام اور شہریوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بتایا ہے کہ درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں بے گناہ شہری اور غیر مسلح افراد کو قتل کیا گیا، جن میں سیکڑوں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ یہ حملے دانستہ اور منظم نسل کشی کا حصہ ہیں جسے عالمی قوانین کے تحت جنگی جرم قرار دیا گیا ہے۔ سوڈان ڈاکٹروں کے نیٹ ورک کے مطابق، الفاشر میں ہونے والی تباہی کے بعد 62 ہزار سے زائد افراد صرف چار دنوں میں شہر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ یہ متاثرہ خاندان شمالی سوڈان کے علاقے الضحبہ میں پہنچے ہیں، جہاں وہ انتہائی ابتر حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق متاثرین کو خوراک، پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوگا، کیونکہ دارفور کے بیشتر علاقوں میں صورتحال مزید بگڑ رہی ہے۔ دوسری جانب اقوامِ متحدہ اور یورپی ممالک نے سوڈان کی بگڑتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بحرین میں ہونے والے ”منامہ ڈائیلاگ سیکیورٹی سمٹ“ میں برطانیہ، جرمنی اور اردن کے وزرائے خارجہ نے سوڈان میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں