میں علی حسن زہری کو نہیں مانتا سرفراز بگٹی وزیراعلی رہیں گے، صادق عمرانی
کوئٹہ(یو این اے )پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر صادق عمرانی نے بلوچستان اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے میں چیف منسٹر کے حوالے سے جاری خبریں بالکل بے بنیاد ہیں اور عوام کو گمراہ نہیں کیا جانا چاہیے۔میر صادق عمرانی نے کہا کہ وہ خود پارٹی کے چیف منسٹر کے امیدوار تھے، لیکن پارٹی قیادت نے سرفراز بگٹی کو چیف منسٹر منتخب کیا اور وہ اسی عہدے پر برقرار رہیں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا، "کل جو اخبارات اور میڈیا میں خبریں چلیں، اس کی تردید کرتا ہوں، ایسی کوئی بات حقیقت پر مبنی نہیں۔ یہ حق صرف پیپلز پارٹی کو ہے کہ وہ اپنا فیصلہ کرے۔پارلیمانی لیڈر نے واضح کیا کہ پارٹی کے فیصلے کے سوا کسی کا بیان یا رائے قیادت کی پالیسی پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا، میں علی حسن زہری کو نہیں مانتاہم پوری طرح پیپلز پارٹی کے فیصلوں کے تابع ہیں اور جو بھی فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی، وہ سب کے لیے حتمی اور قابل عمل ہوگا۔”میر صادق عمرانی نے پارٹی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری، بلاول بھٹو اور فریاد تالپور کے فیصلے پارٹی کی پالیسی اور صوبے کی ترقی کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرفراز بگٹی بلوچستان کے چیف منسٹر ہیں اور رہیں گے، یہ پارٹی کا فیصلہ ہے اور اسی پر عمل ہوگا۔پارلیمانی لیڈر نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ پارٹی کے فیصلے پر غیر متعلقہ بیانات پر بھروسہ نہ کریں اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے عزم اور صوبے کی ترقی کے وژن پر توجہ دیں۔
دوسری جانب صوبائی وزیر میر علی حسن زہری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صادق عمرانی کا یہ کہنا کہ وہ علی حسن زہری کو نہیں جانتے، خود ان کی بددیانتی اور جھوٹ کا ثبوت ہے۔ میر علی حسن زہری نے کہا کہ ”میرا سوال یہ ہے کہ یہ صادق عمرانی آخر ہے کون؟ یہ وہی شخص ہے جس کا سیاسی کردار جھوٹ، انتشار اور موقع پرستی کے سوا کچھ نہیں۔“اگر صادق عمرانی اپنے ہی پارٹی وزیر کو نہیں جانتے تو میں بھی انہیں نہیں جانتا۔ جسے اپنے کارکنوں کی عزت نہیں، وہ میرے لیے بھی نامعلوم ہے۔عمرانی صاحب کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے اور میرے خلاف بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صادق عمرانی کو کسی وزیر کے خلاف بیان دینے کا نہ کوئی اختیار ہے اور نہ اخلاقی جواز۔ پارٹی سے وفاداری بڑے دعوو¿ں سے نہیں بلکہ عمل، محنت اور قیادت کے فیصلوں کی پابندی سے ثابت ہوتی ہے۔صوبائی وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ صادق عمرانی کا پارلیمانی لیڈر ہونے کا دعویٰ انہیں یہ حق نہیں دیتا کہ وہ پارٹی کے اہم معاملات پر ”حتمی بیان“ دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معزز صدر آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور محترمہ فریال تالپور کے فیصلے ہی جماعت کے اصل اور حتمی فیصلے ہیں، اور پارٹی کا کوئی رکن ان سے بالاتر نہیں۔میر علی حسن زہری نے کہا کہ لالچ انسان کو اصولوں سے ہٹا دیتا ہے اور آج یہی کیفیت صادق عمرانی میں نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”آپ میرے سیاسی قائد نہیں ہیں۔ میرے قائد صرف صدر پاکستان آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ادی فریال تالپور ہیں۔“انہوں نے مزید کہا کہ صادق عمرانی کی سابقہ سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ پارٹی کو تقسیم کرنے اور پارٹی مخالف عناصر کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں سرگرم رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کا مفاد پرستانہ چہرہ جلد پوری طرح بے نقاب ہو جائے گا۔


