پشتونخواہ نیپ نے این اے 251 پر انتخابی ٹریبونل کے فیصلہ کو مایوس کن جبکہ جے یوآئی نے منظم انجینئرنگ قرار دے دیا

کوئٹہ (این این آئی) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں پارٹی چیئرمین خوشحال خان کے قومی اسمبلی کے حلقہ NA-251 ، ژوب/قلعہ سیف اللہ/شیرانی کے حوالے سے انتخابی ٹریبونل کے فیصلے کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اور انتخابی ٹریبونل کو اس حلقے کے انتخابی مراحل کے تمام ناقابلِ تردید حقائق، تمام پولنگ اسٹیشنوں کا مستند ریکارڈ، اور خوشحال خان کاکڑ کی کامیابی کے پختہ شواہد فراہم کرنے کے باوجود ایسا فیصلہ آنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پارٹی کو بجا طور پر یقین تھا کہ جب مرکزی الیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائٹ، کیس کی رسمی سماعتوں، اور بعد ازاں باضابطہ طور پر قائم کیے گئے تحقیقاتی کمیشن میں خوشحال خان کاکڑ کی کامیابی کو واضح قرار دیا تھا، تو ٹریبونل بھی انصاف کے تقاضوں کے مطابق خوشحال خان کی کامیابی کا فیصلہ صادر کرے گا۔ اسی طرح ہائی کورٹ کے فاضل ٹریبونل نے بھی خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب قرار دینے کے بعد فریقِ مخالف کی تسلی کے لیے 22 پولنگ اسٹیشنوں کی دوبارہ گنتی کا حکم جاری کیا تھا۔ مزید کہا گیا کہ ٹریبونل کے حکم کے تحت کی گئی دوبارہ گنتی میں بھی خوشحال خان کاکڑ کو چار ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری حاصل ہوئی، جس کا نتیجہ باقاعدہ طور پر ریٹرننگ آفیسر نے ٹریبونل کے روبرو پیش کیا تھا۔اور اسی طرح پولنگ ایجنٹس اور مختلف پولنگ اسٹیشنز کے پریزائڈنگ آفیسرز نے پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ کے حق میں گواہی دی اور اسی طرح الیکشن کمیشن نے اپنا تمام ریکارڈ بھی ٹریبونل کے سامنے پیش کیا اور پھر طویل سماعتوں کے بعد ٹریبونل نے خوشحال خان کی واضح برتری کا تفصیلی ریکارڈ بھی مرتب کیا۔ ان تمام حقائق اور وضاحتوں کے باوجود 22 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ ووٹنگ کا فیصلہ نہ صرف مایوس کن ہے بلکہ انتخابی انصاف کے اصولوں کے منافی بھی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ حلقہ NA-251میں خوشحال خان کاکڑ کی اصل برتری بیس ہزار سے زائد ووٹ تھی، مگر 8فروری کے بعد ضلع قلعہ سیف اللہ کے قومی اسمبلی حلقے کے تمام نتائج کو غیر قانونی طور پر قلعہ سیف اللہ میں روک لیا گیا۔ بعد ازاں پارٹی اور عوام کے بھرپور احتجاج کے نتیجے میں 10فروری کو ریکارڈ ریٹرننگ آفیسر ڑوب کے دفتر لایا گیا، جہاں دوبارہ گنتی کے نام پر غیر قانونی طریقہ? کار اختیار کیا گیا۔ اس گنتی میں خوشحال خان کاکڑ کو نو سو ووٹوں کی برتری حاصل تھی، مگر بعد میں پوسٹل بیلٹ میں کھلی مداخلت کے ذریعے مخالف امیدوار کو صرف نوّے ووٹوں کی برتری دلائی گئی، حالانکہ خوشحال خان کاکڑ کے پوسٹل بیلٹ پندرہ سو سے زائد تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ حکومتی سطح پر انتخابی عمل کے ہر مرحلے میں کی جانے والی دھاندلی کے تمام شواہد الیکشن کمیشن اور ٹریبونل کے سامنے بھرپور طریقے سے پیش کیے جا چکے ہیں۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واضح کیا ہے کہ پارٹی اور حلقے کے غیور عوام انصاف کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں گے اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر اپنا بھرپور آئینی و قانونی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

دوسری جانب جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ انتخابی دھاندلی کے خلاف جے یو آئی کی درجنوں ٹھوس، شواہد سے بھرپور درخواستوں کو یکسر مسترد کرنا جبکہ ہمارے مخالفین کی کمزور و بے بنیاد درخواستوں پر من مرضی اور جانبدار فیصلے صادر کرنا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ پورا عمل پہلے سے طے شدہ اس اسکرپٹ کا حصہ تھا، جس کا مقصد ہر قیمت پر جے یو آئی کو سیاسی منظرنامے سے باہر رکھنا ہے۔یہ رویہ نہ صرف انتخابی انصاف کا قتل ہے بلکہ پورے نظام کی ساکھ کو خاکستر کرنے کے مترادف ہے۔ پی بی–7,پی بی 45 اور این اے251 سمیت مختلف حلقوں کے فیصلے اس منظم انجینئرنگ، ادارہ جاتی تعصب اور سیاسی انتقام کی زندہ مثالیں ہیں جنہیں جے یو آئی کسی صورت تسلیم نہیں کرتی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعیت نے روزِ اول سے اعلان کیا تھا کہ یہ انتخابات تاریخ کے بدترین، پہلے سے طے شدہ، غیر شفاف اور جھرلو ہے۔ عوام نے ہر فورم پر جے یو آئی کی طاقت اور وزن کا لوہا منوایا، مگر پردے کے پیچھے کام کرنے والی قوتوں نے مضموم سازشوں، منظم رِگنگ، اور سوچی سمجھی انتخابی واردات کے ذریعے جے یو آئی کی راہ روکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بلوچستان کی تاریخ میں اس درجے کی پولنگ اسٹیشن دراندازی، فارم 45 چوری، نتائج مسخ کرنے، اور عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے کی مثال نہیں ملتی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں جس جرم کی سزا دی جارہی ہے، وہ بھی ڈھکی چھپی نہیں جے یو آئی نے ہمیشہ غیر آئینی ہتھکنڈوں، اسٹیبلشمنٹ زدہ سیاسی انجینئرنگ، صوبے کے وسائل پر قبضہ گروپوں، اور اسرائیلی لابی کے مقامی کارندوں کے سامنے بند باندھا۔ صوبے کے حقوق پر دو ٹوک، بےلچک اور غیر سمجھوتہ آمیز موقف نے وہ قوتیں چراغ پا کردی ہیں جو بلوچستان کو اپنی چراگاہ سمجھتی ہیں۔جمعیت علماءاسلام نہ کرسی کی بھوکی ہے، نہ اقتدار کی رسیا۔ مگر جو رویہ اختیار کیا جارہا ہے وہ پورے جمہوری ڈھانچے کے لیے سیاسی زہر، آئینی توہین اور جمہوریت کی تذلیل کے مترادف ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جو صوبے اور ملک کے مستقبل کیلئے اچھا شگون نہیں ہے جے یو آئی واضح کرتی ہے کہ جب تک عوامی مینڈیٹ کی لوٹی ہوئی امانت واپس نہیں کی جاتی، سیاسی جھرلو اور نتائج ساز منصوبے بے نقاب نہیں ہوتے، اور حقیقی جمہوری راستہ بحال نہیں کیا جاتاہماری جدوجہد ایک لمحہ بھی رکے گی نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں