بلوچستان میں شراکت اقتدار کے چہرے بدلنے کا معاہدہ بلوچستان کا اصل ایشو اور مسئلہ نہیں، لشکری رئیسانی

اسلام آباد(آن لائن) سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ سرفراز بگٹی، قدوس بزنجو کا تسلسل ہے، بلوچستان کامسئلہ قومی اختیار، واک اور سیاسی آزادی ہے،بلوچستان کے موجودہ حالات کے ذمہ دار پی ایس ڈی پی یرغمال پارٹیاں بھی ہیں جنہوں نے سیاست اور سیاسی کارکنوں کو ٹھیکیداروں کے حوالے کیا،بلوچستان میں شراکت اقتدار کے چہرے بدلنے کا معاہدہ بلوچستان کا اصل ایشو اور مسئلہ نہیں ہے، قومی حقوق کا سودا کرنے والوں کے ڈھائی سال بعد صرف چہرے بدلیں گے نظام نہیں،آج کا فیصلہ کل کے تاریخ دان پر چھوڑنے کی بجائے آج کی نسل کو خود کرنا ہوگا، اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفاد کیلئے قربان کرنے والے شعوری سیاسی کارکن آئندہ نسلوں کے وقار عزت، ناموس اور ترقی میں اپنا کردار اداکرنے کیلئے سامنے آئیں۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہاکہ بلوچستان کامسئلہ قومی اختیار، واک اور سیاسی آزادی ہے تاہم کچھ سیاسی جماعتیں اور افرادصوبے کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ بلوچستان کے موجود حالات ایک فرد کی وجہ سے خراب ہیں جو قطعا درست نہیں،انہوں نے سوال کیا کہ سرفراز بگٹی اس قدوس بزنجو کا تسلسل نہیں جس کو اقتدار میں یہ لوگ خود لائے تھے؟ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سیاسی پارٹیاں اپنے پارٹیوں کے اندر یہ سوال کریں کہ کیا بلوچستان کے حالات ایک فرد کی وجہ سے خراب ہیں یاپی ایس ڈی پی یرغمال پارٹیاں بھی اس کا ذمہ دار ہیں جنہوں نے سیاست اور سیاسی کارکنوں کو ٹھیکیداروں کے حوالے کیا ہے اور اس صوبے کے لوگوں کا اعتماد سیاسی عمل سے اٹھ چکا ہے جس کی ذمہ دارتمام سیاسی جماعتیں ہیں۔نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے بلوچستان میں ڈھائی ڈھائی سالہ شراکت اقتدار کے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ بھی یہ سن رہے ہیں کہ بلوچستان کی حکومت کو ڈھائی ڈھائی سال میں تقسیم کیا گیا ہے یہ اس صوبے کے لوگوں کیساتھ مذاق اوران کی توہین ہے کہ سیاسی جماعتوں اور لوگوں نے اقتدار کیلئے بلوچستان کے قومی حقوق کا سودا ڈھائی ڈھائی سالہ اقتدار کے عوض کیا ہے ڈھائی سال بعد صرف چہرے تبدیل ہوں گے نظام نہیں بدلے گا، چہرے بدلنے کے مذاق کو بلوچستان کا اصل ایشو اور مسئلہ بتایا جارہاہے جسے بلوچستان کے باشعور سیاسی کارکن اور لوگ قبول نہیں کرتے ہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے وہ شعوری سیاسی کارکن جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفاد کیلئے قربان کیا ہے وہ سیاسی ٹھیکیداروں کا راستہ روکنے کیلئے سامنے آکر اپنی آئندہ نسلوں کے وقار عزت، ناموس اور ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اگر ہم ایشوز تاریخ دان پرچھوڑیں گے تو تاریخ دان آئندہ کچھ بھی لکھ سکتا ہے بجائے اس کہ کے آئندہ آنے والے دنوں میں تاریخ دان فیصلہ کرے آج کی نسل کوآج کا فیصلہ خود کرنا پڑئیگا تاکہ ہم ایک ترقی یافتہ باشعور اور منظم قوم کی حیثیت سے باقی قوموں میں پہچانے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں