امریکہ میں متعدد افغان شہری سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے، تمام مجرموں کو واپس بھیجا جائے گا، ہوم لینڈ سیکورٹی
واشنگٹن (آن لائن) امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے مطابق متعدد افغان شہری سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے جبکہ بائیڈن انتظامیہ کا دعویٰ تھا کہ ہزاروں افغان شہری تمام تر تصدیقی مراحل کے بعد ملک میں داخل کیے گئے، امریکی عوام کو خطرناک اور غیر تصدیق شدہ پس منظر والے عناصر سے محفوظ رکھنا ضروری ہے، تمام مجرموں کو وطن واپس بھیجا جائے گا۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے مطابق غیر تصدیق شدہ پس منظر والے افغان تارکین وطن کے ہاتھوں تشدد کے واقعات درج ہوئے۔ ریاست مونٹانا میں ذبیح اللہ مہمند پر کم عمر لڑکی سے جنسی زیادتی کا الزام ہے۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے مطابق ریاست وسکونسن میں بہراللہ نوری کم عمر بچی سے جنسی جرم کی کوشش پر گرفتار ہے۔ محمد ہارون معاد کم عمر بچی سے متعلق جنسی جرائم کے مقدمات میں نامزد ہے۔ جاوید احمدی دوسری ڈگری کے حملے میں سزا یافتہ، 2025 میں ICE کے ہاتھوں دوبارہ گرفتار ہوا۔ سزا کے باوجود احمدی کو ملک میں رہنے دیا گیا تھا۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے مطابق محمد خروین مبینہ طور پر ٹیرر واچ لسٹ میں شامل، 2024 میں گرفتار ہو کر رہا ہوا۔ ایک سال بعد خروین دوبارہ پکڑا گیا، ممکنہ دہشت گرد روابط کے شبہات ہیں۔ اوکلاہوما شہر میں عبداللہ حاجی زادہ اور ناصر احمد تاہدے الیکشن ڈے حملے کی مبینہ منصوبہ بندی پر گرفتار ہوا۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے مطابق دونوں کے قبضے سے اسلحہ اور شدت پسند گروہ سے ممکنہ وابستگی کے شواہد ملے۔ ریاست ورجینیا میں ٹریفک اسٹاپ کے دوران فائرنگ میں جمال ولی ہلاک ہوا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ سے قبل ملزم نے طالبان سے وابستگی کا ذکر کیا۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے مطابق امریکی عوام کو خطرناک اور غیر تصدیق شدہ پس منظر والے عناصر سے محفوظ رکھنا ضروری ہے تمام مجرموں کو وطن واپس بھیجا جائے گا۔


