رحمدل فضل بے قصور اور اپنے گھر کا واحد کفیل تھا، جھوٹا الزام لگا کر قتل کیا گیا، ہمیں انصاف فراہم کیا جائے، اہلخانہ کا مطالبہ

تربت (بیورو رپورٹ) 14 دسمبر 2025 کو آپسر ریسرچ فارم تربت میں قتل ہونے والے رحمدل فضل کے اہلِ خانہ نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی اور مقتول پر لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ مقتول کی والدہ نے دیگر اہلِ خانہ کے ہمراہ میڈیا کو بتایا کہ رحمدل فضل ایک غریب مزدور اور زامیاد گاڑی کا ڈرائیور تھا جو کنٹانی اور بارڈر کے علاقوں میں محنت مزدوری کرکے روزی روٹی کماتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلح تنظیم نے رحمدل کو قتل کرنے کے بعد اسے مخبر قرار دے کر ذمہ داری قبول کی، جو سراسر جھوٹ اور من گھڑت الزام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رحمدل ایک یتیم تھا، اس کے والد کو بھی پہلے بے گناہ قتل کیا جا چکا ہے اور میں نے خود کشیدہ کاری کرکے اسے پالا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا نہ ذولقان سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی نصیر سے، اور ہم انہیں جانتے تک نہیں۔ اہل خانہ کا کہنا تھا کہ اگر رحمدل کسی سرکاری ادارے یا کسی تنظیم سے وابستہ ہوتا تو وہ اس قدر کسمپرسی کی زندگی نہ گزارتا اور بارڈر پر جا کر زامباد گاڑی نہ چلاتا۔ سرکاری یا مخبر افراد عالیشان زندگی گزارتے ہیں، جبکہ رحمدل انتہائی سادہ اور غریبانہ زندگی بسر کر رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سرکار کی جانب سے اس کا بارڈر ٹوکن بھی بند کیا گیا اور اس پر مسلح تنظیموں سے تعلق کا الزام لگایا گیا۔ پریس کانفرنس میں اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی تنظیم یا ادارے کو رحمدل پر کسی قسم کا شک تھا تو انہیں قتل کرنے کے بجائے اہلِ خانہ کو آگاہ کیا جاتا اور صفائی کا موقع دیا جاتا۔ قتل کرکے ایک غریب خاندان کو بے سہارا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں، محنت مزدوری اور کپڑے سی کر گزارا کرتے ہیں۔ بے گناہوں کو یوں قتل نہ کیا جائے۔ اہلِ خانہ نے مقتول پر لگائے گئے تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر رحمدل کسی منفی سرگرمی میں ملوث تھا تو اس کے ٹھوس ثبوت پیش کیے جائیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ رحمدل فضل ایک بے قصور انسان اور اپنے گھر کا واحد کفیل تھا، اور یہ ہمارے خاندان کے ساتھ دوسری بار ناانصافی اور ظلم ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں