بلدیاتی نظام موثر طریقے سے لاگو کرنے میں ہم لوگ ناکام رہے، اس وجہ سے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا تھا، وزیر دفاع
ویب ڈیسک : الحمرا ہال لاہور میں تھنک فیسٹ کے دوسرے روز خطاب میں خواجہ آصف نے کہا کہ بلدیاتی نظام مؤثر طریقے سے لاگو کرنے میں ہم لوگ ناکام رہے، اس وجہ سے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا تھا۔انہوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا میری سیاسی برادری لوکل گورنمنٹ سے اتنی خائف کیوں ہے، عوام کی فلاح کے لیے بلدیاتی نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات دیے گئے، صوبوں کی سطح پر اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہونے چاہئیں۔اُن کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم میں اہم جز بلدیاتی نظام تھا، جب تک اختیارات کو نچلی سطح تک نہیں لے کر جائیں گے ملک نہیں چلے گا۔خواجہ محمد آصف نے یہ بھی کہا کہ بلدیاتی نظام مؤثر طریقے سے لاگو کرنے میں ہم لوگ ناکام رہے، لوکل گورنمنٹ سےکسی کوکوئی خطرہ نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کے 3 بڑے ڈکیٹروں نے بلدیاتی انتخابات کروائے، موجودہ پارلیمنٹ میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو جنرل ضیاء کی حکومت کے دوران سیاست میں آئے تھے۔وزیر دفاع نے کہا کہ بلدیاتی اداروں سے سب سے بڑا خطرہ بیوروکریسی کو ہوتا ہے، ہمیں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنا ہوں گے، اس سے ٹیکس زیادہ اکٹھا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ صحت، تعلیم، سوشل سیکٹر میں حکومتوں کا عمل دخل کم ہونا چاہیے، دنیا بھر میں بلدیاتی نظام مضبوط بنایا جاتا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ سب اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کی قومی مفاد کے فیصلے کرنا چاہئیں، نئےصوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں، بلدیاتی نظام کو نرسری کی طرح لینا چاہیے، نئے صوبے بنائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ساری دنیا نیو یارک کے میئر کو جانتی ہے، حکومت اس کے خلاف تھی، وہ اس کے باوجود جیتا، وہاں سسٹم مضبوط ہے عوام کی رائے کا احترام ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ 18ویں ترمیم میں بلدیاتی نظام اور قومی تعلیمی نصاب کی بات شامل تھی، بعد میں اسے نکالنا پڑا، سیاست دانوں کو سمجھنا ہوگا کہ ہمیں اختیارات نچلی سطح پر دینا ہوں گے، ہمارے سمیت کوئی سیاسی جماعت خوف محسوس نہ کرے، لوکل گورنمنٹ ہمارا تحفظ کرتی ہے۔


