حیات بلوچ کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر سکتا ہے، مولانا غفور حیدری

اوستہ محمد: جمعیت علما اسلام کے مر کزی جنر ل سیکر یٹری وسینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ بلوچستان کو ہوا چل رہی کہ ایک طالب علم حیات بلوچ کو اس کے بوڑھے ماں باپ کے سامنے قتل کیا جاتا ہے جبکہ اس سے کوئی اسلحہ بھی برآمد نہیں ہوتا پہلے قتل پر تفتیش شروع ہوجاتی ہیں، آخر یہ ہو رہا ہے حیات بلوچ کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر سکتا ہے اس پر سنجیدگی اختیار کی جائے صوبائی حکومت کے اختیارات سلب ہیں بلوچستان میں اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرنے والوں کے زبان پر ہمیشہ یہی نعرہ ہے کہ ہم ریاست کے خلاف نہیں ہے بلوچستان میں بسنے والوں نے انتخابات میں حصہ لے کر ہمیشہ محب وطنی کا ثبوت دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مولانا عبدلغفور حیدری نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی بندش کہ وجہ سے ایک تعلیمی یافتہ نوجوان گھر کے طرف لوٹتے ہی اس کو دہشت گردوں کی طرح اس کو اس کے بوڑھے ماں باپ کے سامنے قتل کیا جاتا ہے اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے اور حیات بلوچ کے قتل میں ملوث افراد کو سزا دیکر حیات بلوچ کے بوڑھے ماں باپ کو انصاف فراہم کیا جائے انہوں نے کہا کہ انتخابات میں بلوچستان کے نوجوان بھرپور حصہ پر حصہ لیکر محب وطنی کا ہمشیہ ثبوت دے رہے ہیں اپنے جائزمطالبات پر احتجاج کرنے والوں کے زبانوں پر کبھی ملک کے خلاف ایک لفظ بھی نکالی گئی صوبائی حکومت حیات بلوچ کے مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدگی دیکھائے اگر اس کے خلاف کوئی کیس ہے تو اس کو گرفتار کیا جاتا ناکہ اس طرح ایک طالب علم کو اس کے بوڑھے ماں باپ کے سامنے گولیاں مار کر قتل کیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں