امریکا کیساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم معاہدے پر دستخط کردیں، ایرانی وزارت خارجہ

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاہدے پر دستخط قریب ہیں۔ تہران میں نیوز کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ زیرِ غور کئی نکات پر فیصلہ ہو چکا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاہدہ ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی توجہ جنگ کے خاتمے پر ہے اور اس مرحلے پر ہم جوہری مسئلے کی تفصیلات پر بات نہیں کر رہے۔ بقائی کا مزید کہنا تھا کہ دھمکیاں، دباﺅ، منفی تاثر دینا اور خاکے شائع کرنا اس خطے کی سیاست کا حصہ ہیں۔ ہم مخالف فریق کے تصورات اور بیانیوں سے قطع نظر میدان عمل میں اپنا کام جاری رکھتے ہیں اور حقائق دیکھتے ہیں۔ ہم ایران کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تیاری اور پیش رفت پر توجہ دے رہے ہیں۔ جہاں ضروری ہو، ہم جواب دیتے ہیں۔ ہمارا اپنا انداز ہے اور ہم دشمن کے انداز اور طریقہ کار کی نقل نہیں کریں گے۔ آبنائے ہرمز کے بارے میں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بقائی نے کہا ہے کہ اگرچہ تہران کسی قسم کا ٹول عائد نہیں کرے گا لیکن یہ معمول کی بات ہے کہ فراہم کی جانے والی خدمات کی قیمت ہو گی۔ ترجمان نے کہا کہ اس آبی گزرگاہ کا انتظام ساحلی ممالک کے پاس ہے۔ ہم آبنائے ہرمز سے ملحق ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ وہاں سکیورٹی فراہم کی جا سکے اور ان کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں