خواتین مذاکرات کار سخت گیر طالبان کا سامنا کرنے کو تیار
کابل:طالبان کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والی پانچ خواتین اب امن مذاکرات میں شدت پسند گروپ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔افغانستان میں مذاکرات کی میز پر ان خواتین کی موجودگی انتہائی اہمیت کی حامل ہے البتہ اس مذاکراتی ٹیم میں مردوں کا غلبہ ہے جس میں افغانستان کی جانب سے مذاکراتی ٹیم میں 16 مرد شامل ہیں جبکہ طالبان کی مذاکراتی ٹیم مکمل طور پر مردوں پر مشتمل ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن اور مذاکراتی عمل میں شریک خواتین میں سے ایک فوزیہ کوفی نے کہا کہ طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انہیں نئے افغانستان کا سامنا ہے اور انہیں اس کے حساب سے جینا سیکھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں خاتون کا اس طرح کا کردار ہونا کوئی معمولی بات نہیں، لہذا ان لوگوں کے درمیان راہ نکالنی ہوتی ہے جو خواتین کی نمائندگی پر یقین نہیں رکھتے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کا تعلق اس بات سے نہیں کہ آپ کیا بات کرتے ہیں بلکہ وہ لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ آپ نے کیا پہنا ہوا ہے اور آپ کا اسکارف صحیح سائز کا ہے یا نہیں۔مذاکراتی عمل میں شریک اسلامی قوانین کی ماہر 66 سالہ فاطمہ گیلانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو طالبان کے ساتھ مذاکرات پر تحفظات ہیں۔80 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف مجاہدین کے ترجمان کے فرائض انجام دینے والی فاطمہ نے کہا کہ افغانستان میں تمام خواتین میں خوف ہے، ہم سب میں یہ خوف ہے کہ جب کبھی بھی افغانستان میں تبدیلی آئی اور سیاسی تبدیلی آئی تو خواتین کو ہی نقصان پہنچے گا۔البتہ انہوں نے کہا کہ انہیں مذاکراتی ٹیم میں شامل مردوں کی حمایت حاصل ہے اور وہ بھی انہی چیزوں پر یقین رکھتے ہیں جن پر میں یقین رکھتی ہوں۔فاطمہ گیلانی، جو اس وقت افغان ریڈ کراس کی صدر بھی ہیں، نے مزید کہا کہ میں ایسا افغانستان چاہتی ہوں جہاں آپ خود کو خطرے میں محسوس نہ کریں اور اگر آپ آج یہ مقصد حاصل نہ کر سکے تو کبھی بھی نہیں کر سکیں گے۔مذاکراتی عمل میں شریک ایک اور خاتون حبیبہ سرابی کو طالبان نے اپنے دور میں کام کرنے سے روک دیا تھا اور وہ افغانستان سے بھاگ کر پاکستان آ گئی تھیں تاکہ ٹیچنگ کا عمل جاری رکھ سکیں۔حبیبہ بھی چاہتی ہیں کہ افغانستان ایک جمہوری ملک بنے اور اسے طالبان کی امارات حکومت کی طرح نہ چلایا جائے جہاں آئینی حقوق پر اسلامی قوانین کو ترجیح دی جاتی ہے۔


