بی ایم سی احتجاج اوپن میرٹ کے خاتمے کی کوششیں قبول نہیں،پشتون طلباء تنظیمیں

کوئٹہ:بلوچستان کی طلبا تنظیموں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے ملازمین کے بنیادی مطالبات منظور ہونے کے بعد معاملے کو لسانی بنیادوں پر متنازعہ بنانے اور ملازمین کی پنشن و جاب سیکورٹی کی مد میں اوپن میرٹ کے خاتمے کی کوششیں کی جارہی ہیں جسے کسی صورت بھی قبول نہیں کریں گے، اگر اوپن میرٹ کی بجائے کوٹہ سسٹم بحال کیا گیا تو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے، ان خیالات کا اظہار پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صوبائی سیکرٹری کبیر ا فغان، پشتون سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صوبائی چیئرمین عالمگیر خان مندوخیل، پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن(آزاد)کے زبیر شاہ آغا، پی ایس ایف کے ڈپٹی چیئرمین مزمل خان،پی ایس او بی ایم سی یونٹ کے ڈاکٹر مزمل خان، پی ایس ایف (آزاد)کے کلیم مندوخیل ودیگر نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ بولان میڈیکل کالج کے طلبا تنظیموں اور صوبے کی باشعور عوام کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں 2017میں کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا جس سے صوبے کی عوام کو یہ امید ہوچلی تھی کہ پشتون بلوچ عوام کوصوبے میں طب کے شعبے میں اعلی علوم کے ساتھ ساتھ صحت کی بہترین سہولتیں میسر آئیں گی، انہوں نے کہا کہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے انتظامی،مالی اور علمی امور کو بہتر انداز میں چلانے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول طلبا تنظیموں، اساتذہ، سیاسی پارٹیوں اور محکمہ صحت کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں صوبائی حکومت اور کابینہ نے ایک ایکٹ منظور کیا،ایکٹ کی منظوری کے وقت کسی کی جانب سے احتجاج نہیں کیا گیا بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز اس اقدام کو سراہتے رہے مگر کچھ عرصہ قبل ملازمین کی جانب سے پنشن اور جاب سیکورٹی پر تحفظات کے حق میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا اور ایکٹ میں ترمیم کے خلاف سازشیں شروع کی گئیں جس میں بعض طلبا تنظیموں نے لسانی بنیادوں پر ملازمین کی پنشن اور جاب سیکورٹی کی بجائے اوپن میرٹ کے خلاف سازشیں شروع کی اس سلسلے میں انہیں موجودہ حکومت کے بعض حلقوں کی بھر پور تعاون حاصل رہی یہ سب کچھ لسانی بنیادوں پر تعلیم دشمنی اور پشتون، ہزارہ،سٹیلر طلبا کو میرٹ پر سیٹیں حاصل کرنے سے روکنے کے لئے کیاجارہا ہے، گزشتہ روز یونیورسٹی ملازمین کے بنیادی مطالبات منظور کئے گئے اور باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا مگر اب معاملے کو لسانی بنیادوں پر متنازعہ بنانے کے لئے یونیورسٹی ایکٹ کے خاتمے اور اوپن میرٹ کی سیٹوں کو ختم کرنے کی مذموم تعلیم ومیرٹ دشمن اقدامات کے لئے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے جسے ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے، ایسے اقدامات سے پشتون اضلاع کے طلبا سمیت ہزارہ، سٹیلرز و دیگر کمیونیٹز کے میرٹ پر آنے والے طلبا کو سیٹوں سے بے دخل ہوجائیں گے، انہوں نے کہا کہ جامعہ بلوچستان میں بڑے جنسی ہراسمنٹ اسکینڈل پر مکمل خاموشی اختیار کرنے والے موجودہ گورنر نے انتہائی عجلت میں بولان میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کی ایکٹ میں ترامیم و غیر قانونی اقدامات کے لئے گورنر ہاؤس میں ہی سینٹ کا اجلاس بلا کر میرٹ پر پورا اترنے والے طلبا کے مستقبل پر حملہ کیاہے، اگر یونیورسٹی ایکٹ یا پھر اوپن میرٹ کی سیٹوں کو ختم کیا گیا تو علم دوست طلبا تنظیمیں سڑکوں پر نکل آئیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں