تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

کوروناکا ابھی مکمل خاتمہ نہیں ہوا مگر طلباء کو تعلیمی نقصان سے بچانے کے لئے حکومت نے 15ستمبر سے جماعت نہم سے 12ویں جماعت تک چاروں صوبوں میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے،چھٹی جماعت سے آٹھویں تک22ستمبر کو اسکول کھلیں گے اور پہلی سے پانچویں جماعت کو30ستمبر سے اجازت ہوگی۔اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہر جماعت کے آدھے بچے ایک دن جب کہ باقی آدھے دوسرے دن بلائے جائیں گے۔ والدین سے کہا گیا ہے کہ بخار، زکام اور کھانسی میں مبتلاء بچوں کو اسکول نہ بھیجیں۔انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ صفائی کا خاص اہتمام کیا جائے، بچے ماسک پہن کر اسکول آئیں۔ان کے درمیان مناسب فاصلہ رکھا جائے۔کورونا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جائے تاکہ کورونا کے پھیلاؤ کو کامیابی سے روکا جا سکے۔ چھوٹے بچوں سے ماسک پہننے اور مناسب فاصلہ رکھنے کے علاوہ بار بار ہاتھ دھونے کی پابندی کرانا عملی طور پر آسان نہیں ہوگا لیکن اس کا خیال نہ رکھا گیا تو بد احتیاطی کے نتائج توقع کے برعکس بھی ہو سکتے ہیں۔تاہم طلباء کو دیر تک تعلیم سے دور رکھنا بھی دانشمندی نہیں۔تھوڑا بہت خطرہ تو لینا پڑے گا۔پاکستان میں عمومی طور پر پابندی کو خاطر میں نہیں لایا جاتا۔دنیا حیران ہے کہ اس بے احتیاطی کے باوجود پاکستان میں کورونا سے وہ تباہی نہیں پھیلی جو ہمسایہ ملک بھارت اور ایران اور افغانستان میں دیکھی جارہی ہے۔بھارت دنیا کا دوسرے نمبر پر متأثرہ ملک ہو چکا ہے۔ایسے ماحول میں کورونا کا پاکستان میں نچلی سطح تک پہنچ جانا ایک معجزہ ہی سمجھا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں احتیاط میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے۔کورونا ایک خطرناک بیماری ہے علاج کے حوالے سے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کا یہ کہنا کافی ہے کہ انہیں پانچ لاکھ میں کورونا کا انجکشن نہیں مل سکا۔ این ڈی ایم کے چیئرمین نے مدد نہ کی ہوتی تو شیخ صاحب کے لئے صحت یاب ہونا مشکل ہو جاتا۔وہ صحتیابی کو موت کے منہ سے واپسی کہتے ہیں۔اور سچ یہی ہے۔دوسری جانب حکومت پراسکول انتظامیہ کا دباؤ بھی تھا۔اس کے علاوہ لاکھوں اساتذہ کے روزگار کا معاملہ بھی ایک تکلیف دہ حقیقت ہے، ٹیوشن پڑھانے والے بھی مشکل حالات سے دوچار ہیں۔کہا جارہاہے کہ کرائے کی عمارتوں میں ہزاروں اسکول مستقل طور پر بند ہو چکے ہیں۔6ماہ کی طویل بندش کے دوران اخراجات برداشت کرنے کی سکت اکثر اسکولوں میں نہیں تھی۔ بچوں کی فیس ہی آمدنی کا واحد ذریعہ تھی رک گئی تو بیشتراسکول اپنا وجود قائم رکھنے کے قابل نہیں رہے۔کورونا نے ویسے بھی روزگار کے مواقع کم کر دیئے والدین کی اکثریت بھی پریشان حال ہے کئی مہینوں کی فیس یکمشت ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ حکومت نے مالی مدد نہ کی تو نجی اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی بڑی تعداد آدھے مہینے کی پوری فیس ادا نہیں کر سکتی۔جو والدین تعلیم کے لئے غیر معمولی لگن اور وسائل رکھتے ہیں ان کی تعداد بہت کم ہے۔یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔آئینی طور پر حکومت میٹرک تک مفت تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے۔مگر سرکاری اسکول اول تو یہ ذمہ داری پوری کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔جو یہ کام کرنے کے اہل سمجھے جاتے ہیں ان کی اصل حالت غیر معیاری ہے۔محکمہ تعلیم میں ملازمت حاصل کرنے کے لئے طویل عرصے سے بنیادی مطلوبہ اہلیت صرف اور صرف رشوت رہی ہے راشی افسران کو اپنی جیبیں بھرنے کی فکر رہتی ہے معیاری تعلیم کی فراہمی کبھی بھی ان کی اولین ترجیح نہیں رہی۔اس ضمن میں گھوسٹ اسکولوں اور گھوسٹ اساتذہ سمیت کئی اسکینڈل سامنے آچکے ہیں مگر بہتری کے آثار تا حال نظر نہیں آتے۔ ہزاروں نجی اسکولوں کی بندش کے نتیجے میں صورت حال مزید ابتر ہو جائے گی۔غریب والدین اسکول کھلنے کی خبر سن کر وہ خوشی محسوس نہیں کر رہے جو اس خبر سے انہیں فطری طور پر ہونی چاہیئے تھی۔یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ بچوں کو چھ مہینے تعلیمی سرگرمیوں سے دور رکھنے کے بعد باقی چھ مہینوں میں دو حصوں میں بٹی کلاس کوکتنا نصاب پڑھایا جا سکتا ہے؟یہ محض خانہ پری تو ہو سکتی ہے اسے بامعنی تعلیمی سرگرمی تسلیم کرنا آسان نہیں۔گزشتہ دہائیوں میں جس طرح تعلیمی اداروں کو چلایا گیا ہے پاکستانی بچوں کی بربادی اور تباہی کے لئے وہی کافی تھا۔کورونا نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔مہنگائی کے ستائے ہوئے والدین کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ بچوں کو اس ادھوری اور نمائشی تعلیمی سرگرمی میں شرکت کے لئے بھیجیں یا تعلیمی سرگرمیوں کی مکمل بحالی کا انتظار کریں۔جبکہ معمولی کھانسی، زکام اوربیماری کی صورت میں حکومت نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ بچوں کو اسکول نہ بھیجا جائے۔اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ والدین سے فیس وصول کی جائے اور اسکول انتظامیہ کے مطالبات کے سامنے ان کی بے بسی کا تماشہ کیا جائے۔واضح رہے کہ عدالتی حکم کے باوجود بیشتراسکول انتظامیہ 20فیصد فیسوں میں رعایت دینے سے گریزاں ہے۔ایک گھر سے اوسطاً تین چار بچے اسکول جاتے ہیں حکومت اپنا آئینی کردار ادا کرے والدین پر اتنا مالی بوجھ نہ ڈالا جائے جسے وہ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے۔سرکاری اسکولوں کی کاکردگی کو بہتر بنایا جائے تاکہ درمیانے طبقے کے سفید پوش ماں باپ معاشرے میں اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھ سکیں۔تعلیمی ادارے اس وقت کھولے جائیں جب وہ طلباء کو تعلیم دینے کے قابل ہوں۔احتیاطی تدابیر کے ساتھ اسکول کھولنے کا اعلان محض خانہ پری ہے عملی طور پراتنا سود مند ثابت ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے جتنا کہ وزیر تعلیم اور ان کے ہمراہ بیٹھے معاون خصوصی برائے صحت امید دلاتے ہیں۔تاہم قہر درویش بر جان درویش کے مصداق بظاہر کوئی دوسرا آپشن بھی نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں