میڈیکل یونیورسٹی کو کالج میں تبدیلی کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں، عثمان کاکڑ
مسلم باغ:پشتونخوامل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر وسینیٹر عثمان خان کاکڑ نے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے کالج میں تبدیلی کے فیصلے کومسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ دنیا میں آج تک یونیورسٹی کو کالج میں تبدیل ہوتے نہیں دیکھا ہے ،کسی کے کہنے پر یونیورسٹی کو کالج میں تبدیل کرنے کے بعد کوئی اس کو سکول میں تبدیل کرنے کیلئے اٹھ کھڑاہوگا ،وزیراعلیٰ بلوچستان صوبے کی برادر اقوام میں فساد پھیلانے کیلئے سازشیں کررہاہے ، آئین کے تحت امن ،تعلیم ،بہترمواصلاتی نظام ،یونیورسٹیاں ،کالجز ،میڈیکل کالجز ویونیورسٹیاں عوام کا آئینی حق ہے،پشتون بلوچ عوام کو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا ورنہ اس کی تمام تر ذمہ داری اس میں ملوث افراد پر عائد ہوگی ،معاشرے کو کھیل کی طرف راغب کرکے ہی صحت معاشرے کی تشکیل کی جاسکتی ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پشتونخوامیپ کی سابق ایم پی اے عارفہ صدیق کے فنڈز 92ملین روپے کی لاگت سے سپورٹس کمپلیکس کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ضلعی سیکرٹری چیئرمین اللہ نور، سابق ایم پی اے عارفہ صدیق ،سردار محمدآصف ،جماعت اسلمی کے عبداللہ ،انجمن تاجران کے عارف کاکڑ، بلوچستان فٹ بال ایسوسی ایشن کے سردار حنیف خان سرگڑھ ،نقیب پامیر ،مولوی عبدالمتین اخوند ودیگر نے بھی خطاب کیا۔سینیٹرعثمان کاکڑنے کہاکہ کھیل دنیا میں ایک اہم مقام رکھتاہے اگر کسی علاقے کا اچھا فٹ بالر ہو تو اس کی پوری دنیا عزت کرتی ہے اسی طرح کرکٹ اور دیگر کھیل ہیں ،ہمارے ہاں بہت سے کھلاڑی موجود ہیں جنہوں نے اپنا لوہا منوایاہے ،چمن کے کھلاڑی جو اس وقت بین الاقوامی ٹیموں میں کھیل رہے ہیں ،بلوچستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے خواہش ہے کہ علاقے میں کھیل کے میدان آباد ہو اس کیلئے نوجوانوں کو کھیل کی طرف راغب کرناہوگاکیونکہ کھیل صحت مند معاشرے کیلئے انتہائی لازمی ہے ،انہوں نے کہاکہ صوبے میں بہت سے ایسے گرائونڈز ہیں جو منشیات کے اڈے بنے ہوئے ہیں لوگ منشیات کیلئے وہاں آتے ہیں ،منشیات کے خاتمے کیلئے سب کو کام کرناہوگا ،عارفہ صدیق کو خراج تحسین پیش کرتاہوں کہ انہوں نے علاقے میں کھیل کے فروغ کیلئے فنڈز مختص کئے اور کام کیا،پشتونخواملی عوامی پارٹی کی کوشش ہے کہ علاقے میں کھیل کے گرائونڈز ،تعلیم کیلئے سکولز،لائبریریاں قائم کی جائیں ،اور اپنے دور حکومت میں ان تمام منصوبوں پر کام کیا گیا اس کیلئے اولس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کھیل کے ساتھ تعلیم پر توجہ دیں تعلیم ہی کے ذریعے ہم دنیا کا مقابلہ کرسکتے ہیں ،سی پیک کے مغربی روٹ کے تحت موٹروے ،اکنامک زون،ہسپتالزچاہیے ہمارے ہاں دہشتگردی اور سڑک حادثوں میں بہت زیادہ لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں ،لوگوں کو بہتر اور معیاری علاج کی فراہمی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر ٹراما سینٹرز تعمیر کیاجائے ،ہم دہشتگردی کے خلاف ہے ہم امن چاہتے ہیں ہمارے لوگ پرامن ہیں آئین کے تحت امن ،تعلیم ،بہترمواصلاتی نظام ہمارا حق ہے ،یونیورسٹیاں ،کالجز ،میڈیکل کالجز ویونیورسٹیاں عوام کا آئینی حق ہے ،حکومت کی طرف سے ایک کمپنی بنائی گئی ہے جس کو ہم قطعا کہیں بھی تسلیم نہیں کرینگے یہ کمپنیاں عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کیلئے بنائی گئی ہیں جس علاقے میں معدنیات ہو وہ وہاں کی عوام کی ملکیت ہے اس حوالے سے کوئی کمپرومائز نہیں کیاجائے گاوسائل پر کسی کو قبضے کی اجازت نہیں دینگے ،یہ پشتونخوا وطن اور بلوچ وطن کے عوام کی ملکیت ہے اگر وزیراعلیٰ جام کمال یا کوئی اور اس پر قبضے کی سوچیں تو ہم وہ اس بات کاادراک کریں کہ ہم نے کبھی بھی اپنے حق پر کمپرومائز نہیں کیاہے ،بلوچ وطن کے معدنیات اور وسائل پر بلوچ عوام اور پشتون وطن میں قدرتی وسائل پر یہاں کا حق ہے ،پشتون بلوچ مفادات کے خلاف وزیراعلیٰ جام کمال اور صوبائی کابینہ کے عوام دشمن کسی بھی فیصلے کو تسلیم کرینگے اور نہ ہی مرکزی حکومت کے عوام کے خلاف فیصلے تسلیم کئے جائیںگے ،بولان میڈیکل یونیورسٹی کو کالج میں تبدیل کرنے جیسے فیصلے کو کسی صورت تسلیم نہیں کرینگے ،انہوں نے کہاکہ دو کالجز بنائیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں دنیا میں آج تک یہ مثال نہیں دیکھا کہ یونیورسٹی کو ختم کرکے کالج بنایاجائے ،کل کو کوئی اور اٹھ کر کہیں کہ میں کالج کو سکول میں تبدیل کرناچاہتاہوں یہ دنیا میں کسی کا بھی رواج نہیں ،یہ اسمبلی سے پاس کردہ ہے ،وزیراعلیٰ تعصب کو چھوڑ دیں آپ اقتدار میں نہیں ہونگے لیکن یہ عوام یہاں موجود ہوگی وزیراعلیٰ جام کمال کی کوشش ہے کہ وہ برادر اقوام میں فساد برپا کرے ،اس حوالے سے پشتون بلوچ کو چاہیے کہ وہ اس فیصلے سے اتفاق نہ کرے اور اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اس سے صوبے میں فساد برپا ہوگااگر یہ فیصلہ ہوگیا تو اس فیصلے میں شامل ہر شخص صوبے کی بربادی کا ذمہ دار ہوگا۔


