ملتان، بلوچ طلباکے احتجاج کو پندرہ روز بیت گئے
بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان انتظامیہ نے بلوچستان کے طلباء کےلیے مختص اسکالرشپ کو ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے خلاف بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کا احتجاجی کیمپ گزشتہ پندرہ دنوں سے جاری ہے.
آج بروز منگل جامعہ زکریا کے مین گیٹ کے سامنے مختلف اسٹوڈنٹس کونسلز اور آرگنائزیشن کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اوریونیورسٹی کے داخلی وخارجی راستے طلبا نے بندکیے جس کے نتیجے میں جامعہ زکریا کے وائس چانسلر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے طلباء کے ساتھ مذاکرات کیے اور طلباءَنے وائس چانسلر کے سامنے اپنے مطالبات پیش کیے
جس کی وجہ سے یونیورسٹی انتظامیہ اور طلباءَ کے درمیان مذاکرات میں مندرجہ ذیل نکات پر پیش رفت ہوئی
1) یونیورسٹی انتظامیہ اور طلباء کے نمائندوں پر مشتمل ایک ورکنگ کمیٹی بنائی جائے گی
2) ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ایک دن کے اندر منعقد ہوگا
3) ریزرو سیٹوں کےلیے مختص اسکالرشپس فنانشیل بحران کا شکار ہیں جس کےلیے ورکنگ کمیٹی بلوچستان ، خیبر پختون خواہ، پنجاب حکومت، سینٹ کمیٹی اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو اپروچ کرے گی تاکہ جلدازجلد اسکالرشپس کی بحالی کے لئے بجٹ کا اہتمام کر سکیں.
تاہم طلبا کے مطابق اسکالرشپس کی دوبارہ بحالی اور عملی اقدامات تک بہاؤلدین ذکریا یونیورسٹی ملتان کے مین گیٹ کے سامنے احتجاجی کیمپ جاری رہے گا
واضح رہے طلبا کے مطابق اگر بلوچستان اور پنجاب کی گورنمنٹ مذاکرات سے پہلے عارضی طور پر ہماری پرانی سٹیٹس بدلنے کےلیےحکومت پہ زور دیں تو ہمارے نئےآنےوالے طلبا اپنا پڑھائی بہتر طور پر کرسکیں
طلبا کے مطابق ہم حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کےقبائلی علاقوں کےلیے سیٹیں مختص کریں اور سکالرشپ کا اجرا کریں


