چیئرمین افغان مفاہمتی کونسل کاخطاب
چیئرمین افغان مفاہمتی کونسل ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ نے انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے افغان عوام کی طرف سے گرمجوشی اور دوستی کا پیغام لایا ہوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں بہترین تعلقات کا خواہاں ہوں، افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے دورہ پاکستان کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان نئے مذاکراتی دور کا آغاز کرناہے افغانستان میں امن سے پاکستان میں بھی امن قائم ہوگا۔ افغانستان آج 1990والاملک نہیں،افغانستان تمام شہریوں کے برابر حقوق پر یقین رکھتا ہے ہم نے آگے بڑھ کر تجارت،کاروباراور عوامی رابطوں کو فروغ دینا ہوگا معیشت کی بہتری کے لئے دونوں ملکوں میں آزادانہ تجار ت ضروری ہے دونوں ممالک کو ایک ہی وقت میں کورونا، معیشت، دہشت گردی اور مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں کہا: ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی شخصیت کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کی تیس سال سے زائد جدوجہد افغانستان میں ایک حریت پسند رہنماکی ہے۔افغانستان کے زمینی حقائق سے بہتر واقفیت رکھتے ہیں۔ ان کی موجودہ ذمہ داریاں ان کے پورے کیریئر کی سب سے زیادہ چلینجنگ ہیں۔طالبان اور امریکا کے درمیان امن معاہدہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے ایسے معاہدے میں ایک نکتے پر پہنچنا مشکل تھا تاہم یہ مرحلہ طے کر لیا گیاہے۔بین الافغان مذاکرات کاانعقاد ایک مثبت اور حوصلہ افزاء اقدام ہے۔ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا حالیہ دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔خطے میں امن افغانستان کے امن سے مشروط ہے آج عالمی برادری افغا ن مسئلے کے حل کی حمایت کر رہی ہے۔ہمیں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر سے باخبر رہنا ہوگا۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آج عالمی سطح پر بالعموم اور اس خطے میں بالخصوص بعض تبدیلیاں نہایت واضح دکھائی دینے لگی ہیں۔آرمینیا اور آذر بائیجان کے درمیان ہونے والی جھڑپ ایک نیا عنصر ہے۔اس کے دوررس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ادھربھارت اور چین کی مسلح افواج ماضی کے برعکس انتہائی قریب اور آمنے سامنے آگئی ہیں کوئی معمولی سی غلطی خطے کے امن کو تباہ کر سکتی ہے۔ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں اس خطے کے مسائل میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہیں۔ایسے حالات میں افغانستان کے متحارب گروہوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔افغانستان میں امن ان کی اپنی ضرورت ہے۔انہوں نے آگ اور خون کے دریا بار بار عبور کئے ہیں۔اپنے پیاروں کی خون میں لت پت لاشیں اٹھائی ہیں۔تباہی اور بربادی کا صرف مشاہدہ نہیں کیا اپنے جسم و جان پر برداشت کی ہے۔تین دہائیوں تک امن کی جگہ بمباری سے دوچار ہونا کسی عذاب سے کم نہیں۔پاکستان بھی اس عرصے میں ایسے ہی مسائل اور دشواریوں سے دوچار رہا ہے۔یہاں بھی مساجد، امام بارگاہیں اور چرچ بموں کی زد میں رہے۔دونوں ملک ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہے کہ ان کی زمین دہشت گردوں کے لئے جنت بنی ہوئی ہے۔اس ضمن میں دونوں حکومتوں کے درمیان متعدد اجلاس بھی ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے اپنی سرحد پر باڑ لگا کر شرپسندوں کی نقل و حمل روکنے کی اہم اور مثبت کوشش کی ہے اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ اب ضرورت ہے دونوں ملک قانونی تجارت کو فروغ دیں، اسمگلنگ روکیں۔اس سے دونوں ملکوں کی معیشت بہتر ہوگی۔غیرقانونی کلچر کا خاتمہ دونوں ملکوں کے لئے ضروری ہو گیا ہے۔امریکی افواج کی واپسی کے بعد افغانستان کو امن کی زیادہ ضرورت ہوگی۔طویل خانہ جنگی کے بعد افغان عوام کی ترقی اورخوشحالی کے لئے کام کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے متحارب گروں کو وسیع تر مفاد کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا۔
دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے بھی گزشتہ چاردہائیوں میں تباہی اور بربادی کے عذاب کا مسلسل سامنا کیا ہے اسے علم ہے جنگ اپنے ساتھ کتنے مسائل لاتی ہے۔سب کچھ تباہ ہوجاتا ہے۔عوام کی آنکھوں سے سہانے خواب چھن جاتے ہیں۔امید کی جگہ مایوسی لے لیتی ہے۔ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا ہے اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ انہیں احساس ہے کسی دوسرے ملک میں رہنے والے افغان شہری ایک کرب سے گزر رہے ہیں۔ افغان مہاجرین اپنی جان و مال خطرے میں دیکھ کر ہی پڑوسی ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔ان کی واپسی کے لئے ضروری ہے افغانستان میں امن وامان کی صورت حال کو بہتر اور یقینی بنایا جائے۔ امریکی افواج کی واپسی کے بعد افغان حکومت اپنے ملک میں امن قائم کرنے کئے ضروری اقدامات میں تاخیر نہیں کرے گی۔ اسے ایک جانب اپنے تباہ شدہ ڈھانچے کو ازسرنو استوار کرنا ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی بہتر مستقبل کی تعمیر میں عوام کا اعتماد اور عملی معاونت بھی حاصل کرنا ہے۔تجربہ سب سے بڑا استاد ہے۔ افغان ذہین، محنتی اور بہادر قوم ہے، مناسب حالات میسر آئیں توبہت کم وقت میں ترقی اور خوش حالی کی نئی مثالیں قائم کر سکتی ہے۔دونوں ملک امن کی قدروقیمت کا ادراک دوسروں سے زیادہ رکھتے ہیں۔اس تناظر میں ماضی کی نسبت زیادہ روشن مستقبل کی توقعات بڑھ جاتی ہیں۔عام طور پر یہی سمجھا جارہا ہے افغان حکمران اپنی ذہانت، تجربے اور عزم کی بدولت عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔


