سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟
اس میں کسی شک کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستان میں سیاست اپنے لغوی معنوں سے عرصہ ہوا محروم ہو چکی ہے اور اس کا منطقی نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ دیگر سیاسی اصطلاحیں بھی اپنی شناخت کھو بیٹھیں۔آئین خود کسی نظریہ کاعلم بردار ہونے کی بجائے نظریہئ ضرورت کے سامنے سر جھکا لے۔ملک میں آئین کی بالادستی ختم ہو جائے اور نظریہئ ضرورت کئی دہائیوں تک راج کرتا رہے۔دکھ اس کا نہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ دکھ اس کا ہے کہ ایسا متعدد بار ہوا۔ یقین نہیں رہا کہ ایسا آئندہ نہیں ہوگا۔گمان کہ ایسا آئندہ بھی ہوسکتا ہے۔پارلیمنٹ میں اکثر ایک دوسرے کوتوجہ دلائی جاتی ہے کہ بوٹوں کی دھمک سنائی دے رہی ہے۔حکومت کو سلیکٹڈ ہونے کا طعنہ دینے والے بھی سسٹم کے جاری رہنے کی بات کرتے ہیں۔عام آدمی ہمیشہ اسی پریشانی میں مبتلاء رہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی میں اپنے بچوں کے منہ میں دو نوالے کیسے ڈالے؟بچوں کے تعلیمی اخراجات کہاں سے پور ے ہوں گے؟گھر سے دفتر جانا بھی مقتل سے گزرکر جانا ہوتا ہے۔سڑکیں صرف ٹوٹی پھوٹی نہیں ان پر اسٹریٹ کرمنلز دندناتے پھرتے ہیں۔جان، مال اور آبرو سب غیر محفوظ ہیں۔کس سے شکایت کریں اور کس سے منصفی چاہیں؟آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔جنرل پرویز مشرف نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر تمام صوبوں کے شکوک دور کرنے کے لئے آئینی ضمانت دینے کی پیشکش کی تو جواب ملا کہ جو آئین اپنی ضمانت نہیں دے سکتا وہ دوسروں کو کیسے ضمانت دے گا؟آج 18ویں ترمیم کے ساتھ پارلیمانی نظام دونوں کا وجود خطرے میں نظر آتا ہے۔جب سے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان پارلیمانی نظام کی خرابیاں بیان کرنے لگے ہیں انہیں صدارتی نظام پسند ہے۔حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان میں صدارتی نظام کا نام لیتے ہی چھوٹے صوبوں کے ذہن میں مارشل لاء اور ون یونٹ کی ناخوشگوار یادیں اورنئے خدشات گھومنے لگتے ہیں۔یہ آئینی مسئلہ ہے اسے شخص واحد چھیڑے گاتو وفاق اور صوبوں کے درمیان دوریاں پیدا ہوں گی۔بلاوجہ نان ایشوکو بنیاد بنا کرسیاسی ماحول کو خراب کرنے کی فی الحال کوئی ضرورت نہیں۔ملک کو سنجیدہ معاشی مسائل کاسامنا ہے۔ایف اے ٹی ایف کی تلوار سر پر لٹک رہی ہے۔گرے لسٹ سے وائٹ میں آسکیں گے یا نہیں، کچھ یقینی نہیں۔نئی قانون سازی کے راستے میں مشکلات حائل ہیں۔آئین سازی اس سے مشکل تر کام ہے۔سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ہم آہنگی کافقدان ہے۔کورونا کی دوسری لہر کے حوالے سے پریشانی موجود ہے۔ریسٹورنٹ اور شادی ہالز طویل بندش کے بعدکھلے اور دوبارہ بند کئے جارہے ہیں۔ہرآدمی ماسک جیب میں ڈالے گھوم رہاہے مگر منہ تک لانا گوارا نہیں کرتا۔عادتیں آسانی سے تبدیل نہیں ہوا کرتیں۔سعودی عرب میں عمرہ کی ادائیگی محدود کر دی گئی ہے۔حجر اسود کو بوسہ دینا ممنوع اور قابل سزاجرم ہے۔مسجدالحرام اور مسجد نبوی میں نمازیوں کو کندھے سے کندھا ملا کے صف بندی منع ہے۔آٹے چینی کی قیمتو ں میں اضافہ مسلسل جاری ہے،اشیائے خوردنی ہفتوں بلکہ دنوں کی بنیاد پر مہنگی کی جاتی ہیں، مہنگائی پرقابو نہیں پایا جا سکا۔انڈے،مرغی اور بھینسوں کٹو ں والی معیشت کے بارے میں کوئی سوال پوچھے تو وزراء ناراض ہوجاتے ہیں۔مناسب منصوبہ بندی کے بغیر اعلانات کئے جائیں تو انجام یہی ہوتا ہے۔اب کہا جا رہا ہے بھنگ سے اربوں ڈالر کمائیں گے۔اس میں شک نہیں کمائے جا سکتے ہیں مگر گلی کوچوں اور کالجوں یونیورسٹیوں میں ہیروئن،آئس،ایفی ڈرین اور کوکین کااستعمال تو روکا جائے۔درسگاہیں منشیات کا مرکز بن کر رہ گئی ہیں۔مشال خان کی طرح کوئی نوجوان آواز بلند کرے تو انتظامیہ سمیت سب اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔اس کی بہنوں پر تعلیم کے دروازے بند ہوجاتے ہیں ان کی فیملی کے لئے آبائی گاؤں میں رہنا ممکن نہیں رہتا۔ کراچی جیسے بین الاقوامی اور صنعتی شہر میں جرائم پیشہ افراد قتل اور لوٹ مار میں مصروف ہیں۔لاء اینڈآرڈر کی حالات خراب ہے۔سیاسی اختلاف اب ذاتی دشمنی میں تبدیل ہوچکا ہے۔سیاسی مخالفین کا مقابلہ کرنے کی بجائے جان سے مار دیا جاتا ہے۔مذہبی منافرت کی جڑیں گہری ہیں۔محرم کا عاشورہ اور چہلم ہرسال فوج کی مددسے کنٹرول کئے جاتے ہیں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پرپابندی لگتی ہے اور موبائل سروس بند کرناپڑتی ہے۔کہنے کو پاکستان میں ریاست کا مذہب اسلام ہیمگر لوگ سلامتی اور امن کو ترس رہے ہیں۔اس سال بھی ملک کے معروف علماء نے اپنے دستخطوں سے ایک اعلامیہ جاری کیاہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کی بار بار ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟سیاسی محاذ پر پی ڈی ایم نے جلسوں کا ملک گیرسہ ماہی پروگرام جاری کیاہے۔ عام حالات میں اسے سیاسی سرگرمی سمجھا جاتا مگرپی ڈی ایم کے قائدین پر غداری کی ایف آر درج کرائی جائیں تونئے سوال اٹھنا فطری امر ہے۔سیاست کو غداری کہنے کی روایت پرانی ہے یہ نقصان دہ رویہ ہے اس کے نتائج سے سب واقف ہیں۔ پی ٹی آئی کا کارکن رات کو دو تین بجے اتنی بڑی ایف آئی آر کا مدعی ہو اور تھانے میں ایف آئی درج ہوجائے تب بھی یہ انہونا واقعہ ہے۔موٹر سائیکل چوری ہونے کی ایف آر دن کی روشنی میں درج نہیں ہو سکتی۔جس ایف آئی آر میں تین سابق وزراء اعظم اور درجنوں طاقت ورسیاست دان نامزد ملزمان کی فہرست میں شامل ہوں پولیس والے کی مجال نہیں کہ ایف آئی آر درج کر لے،یہ اقدام کسی بڑی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں۔وزیر اعظم عمران خان اس اقدام سے بے خبر ہونے کادعویٰ کر رہے ہیں۔ مدعی کہیں روپوش ہو گیا ہے۔ جو پولیس ہائی وے ریپ کا معمولی ملزم عابد ملہی گرفتار نہ کرسکے اتنے بااثر مدعی کو کون تلاش کرے گا؟ ایسے غیر یقینی اور پراسرار حالات میں سیاست بھی مشکوک سمجھی جاتی ہے۔ 16اکتوبر کو گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کا پہلا جلسہ حکومت گراؤ تحریک کا رخ متعین کرے گا دیکھیں سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟


