میر حاصل بزنجو نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیکورٹی اسٹیٹ کو رد کیا ،عبدالمالک بلوچ

حیدرآباد: نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ میر حاصل بزنجو نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیکورٹی اسٹیٹ کو رد کیا اور ملک کو ویلفیئر اسٹیٹ بنانے کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔ اگر سندھی اور بلوچوں نے جدوجہد کیلئے موثر صلاحیت پیدا نہ کی تو آج جو کچھ ہورہا ہے اس سے کئی گنا زیادہ ہمیں بھگتنا پڑے گا۔ جزیروں کی ترقی کے نام پر وفاق کی قبضہ گیری جاری ہے۔ وہ حیدرآباد پریس کلب میں نیشنل پارٹی کی جانب سے میر حاصل بزنجو کی یاد میں تعزیتی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ ریفرنس سے سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ، مسلم لیگ(ن) کے رہنما قمرالزماں ، ہاری کمیٹی کے صدر اظہر جتوئی اور دیگر نے خطاب کیا۔ عبدالمالک بلوچ نے کہاکہ ماضی میں بھی سندھ کے جزائر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی اس مرتبہ بھی جزیرے پر قبضہ کرنے کا عمل ٹیسٹ کیس ہے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کے قوم پرست متحرک ہوجائیں تو یہاں موجود وسائل کو بچایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں پرویز مشرف نے آگ لگائی اور نواب اکبر بگٹی کو شہید کیا تو نوجوان ہم سے کٹ گئے تھے، ہم نے میر حاصل بزنجو کی قیادت میں عدم تشدد کا راستہ اختیار کیا ، میر حاصل نے سندھ اور بلوچستان کو ہمیشہ جوڑے رکھا ، سندھ میں بڑے عظیم لوگ تھے جنہوں نے عوام کیلئے جدوجہد کی۔ انہوں نے کہاکہ ہم تین نکات پر متفق ہیں جب تحریک چلے تو ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ہم نے پی ڈی ایم سے کہا ہے کہ ہمارے بنیادی مسائل برسوں سے حل نہیں ہوئے ہیں ان پر فوری توجہ دی جائے کیونکہ سندھ صدیوں کی تہذیب ہے ، وسائل کی جنگ میں ہم ایک ساتھ ہوں گے۔ اس موقع پر سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کے چیئرمین جلاول محمود شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میر غوث بخش نے کہا تھا کہ جب پنجاب سے قیادت ابھرے گی تب ملک میں جمہوریت کی ابتداء ہوگی ، انہوں نے پارلیمنٹ میں ہمیشہ حقیقی کردار ادا کیا ، وہ آج ہم میں نہیں رہے تو لگتا ہے کہ سیاست میں ہمارا کردار نیچے آجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ سازشی عناصر کو سندھ اور بلوچستان کے وسائل چاہئیں، ہاری کمیٹی کے اظہر جتوئی نے کہاکہ سازشی عناصر کو سندھ اور بلوچستان کے وسائل چاہئیں اس کیلئے وہ مختلف طریقوں سے سازشیں کرتے رہتے ہیں تاکہ سندھ اور بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کرکے ان دونوں صوبوں کی مظلوم عوام کو محکوم بناسکیں۔ انہوں نے کہاکہ وقت آگیا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے سیاسی رہنما مشترکہ جدوجہد کریں اور سندھ کے عوام کو محرومیوں سے نجات دلوائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں