یورپ کو کورونا وائرس سے سبق لینا ہو گا: انگیلا میرکل

جرمنی :جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے یہ تنبیہ ایسے وقت کی ہے جب کورونا وائرس پھیلنے کے بعد سے اب تک یورپ میں انفیکشن کی تعداد سب سے زیادہ درج کی گئی ہے۔

جرمنی کی تمام 16ریاستو ں کے سربراہان بدھ کے روز جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے ملاقات کر رہے ہیں۔ وہ اس مہلک وائرس پر قابو پانے کے لیے نئے ضابطوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے منگل کے روز کہا کہ پورے یورپ میں کورونا وائرس کے انفیکشن پھیلنے کے حالیہ واقعات تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے یورپی یونین کے رکن ملکوں سے ان غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بھی اپیل کی جو انہوں نے اس سال کے اوائل میں کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے میں پہلی مرتبہ کی تھیں۔

میرکل نے خطوں کی یورپی کمیٹی کے مقامی نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاون کی وجہ سے یورپی یونین کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کو کافی نقصان پہنچا ہے اور ‘ہمیں یہ ثابت کرنا چاہیے کہ ہم نے سبق سیکھ لیا ہے۔”

جرمن چانسلر نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بات چیت کرتے ہوئے مزید کہا”ہمیں یورپ کے لوگوں سے کہنا چاہیے کہ وہ محتاط رہیں، وہ ضابطوں پر عمل کریں، وہ دوری بنائے رکھیں، اپنے منہ اور ناک کو ڈھانپ کر رکھیں اور اپنی اقتصادی سرگرمیوں کو برقرار رکھتے ہوئے اس وائرس کو قابو میں رکھنے کے لیے جو کچھ بھی کرسکتے ہوں، وہ سب کریں۔”

فرانسیسی حکومت کی طرف سے گزشتہ جمعرات کو ملکی سطح پر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں سیاحوں میں مشہور خوابوں کا شہر پیرس بھی بالکل خاموش ہو گیا ہے۔ پیرس کے مقامی باسیوں کو بھی کہہ دیا گیا ہے کہ وہ ضروری کام کے علاوہ گھروں سے نہ نکلیں۔ یہ وہ شہر ہے، جس کے کیفے جنگوں میں بھی کبھی بند نہیں ہوئے تھے۔

میرکل کی یہ تنبیہ ایسے وقت آئی ہے جب عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے یور پ میں کورونا وائرس کے سات لاکھ سے زیادہ نئے کیسز درج ہوئے ہیں جو کہ اس براعظم کے لیے ایک ریکارڈ ہے۔ یہ گزشتہ ہفتہ کی تعداد کے مقابلے 34 فیصد زیادہ ہے۔

دریں اثنا جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جرمنی کی تمام 16ریاستوں کے سربراہوں کے ساتھ بدھ کے روز ملاقات سے قبل باویریا کے وزیر اعظم مارکوس سوڈر نے کہا کہ جرمنی کو وائرس کے پھیلنے سے روکنے کے لیے ملک گیر ضابطوں پر متفق ہوجانا چاہیے۔

مارکوس سوڈرکا کہنا تھا کہ اگلے چار ہفتے جرمنوں کے لیے کافی اہم ہو ں گے جو اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا وہ اطمینان اور سکون کے ساتھ کرسمس مناسکتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا”ہمیں مشترکہ طور پر اقدامات کرنے ہوں گے ورنہ معاملہ ہاتھ سے نکل جانے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔”

خوف و گھبراہٹ کے شکار صارفین کی وجہ سے سپر مارکیٹس خالی ہو گئی ہیں۔ جرمن شہریوں نے تیار شدہ کھانے اور ٹوئلٹ پیپرز بڑی تعداد میں خرید لیے ہیں۔ ٹافل نامی ایک امدادی تنظیم کے یوخن بروہل نے بتایا کہ اشیاء کی قلت کی وجہ سے کھانے پینے کی عطیات بھی کم ہو گئے ہیں۔ ’ٹافل‘ پندرہ لاکھ شہریوں کو مالی اور اشیاء کی صورت میں امداد فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے لوگوں سے ماسک کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے اور ایلی ویٹروں میں لازمی پوشاک پہننے نیز تقریبات کو چھوٹے پیمانے پر منعقد کرنے کی اپیل کی۔

خیال رہے کہ اپنے دیگر یورپی پڑوسیوں کے مقابلے میں جرمنی میں کورونا سے متاثرین اور اموت کی شرح نسبتاً بہت کم رہی ہے۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں کیسز کی یومیہ تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ چانسلر میرکل نے متنبہ کیا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو یومیہ 19200 کیسز سامنے آسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں