شہبازشریف/حمزہ شہبازبکتر بند گاڑی میں!
شرف فیملی نے کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ انہیں بکتر بند گاڑی میں بٹھا کر عدالت میں پیشی کے لئے لایا جائے گا۔یاد رہے کہ حمزہ شہباز نے گزشتہ پیشی پر بکتر بند میں بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا۔ اور پولیس انہیں عدالت لے جانے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔اسی طرح شہباز شریف بھی بکتر بند گاڑی میں عدالت پہنچے، انہوں نے معزز عدالت کو بتایا کہ وہ کمر درد کے مریض ہیں، بکتر بندمیں بھی لیٹ کر سفر کیا ہے۔ جیل میں میڈیکل سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں۔انہوں عدالت کو مزید بتایا کہ حمزہ شہباز بھی شیاٹیکا کے مریض ہیں، وہ بھی شدید اذیت میں ہیں۔عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔مقدمے کی سماعت معمول کے مطابق جاری رہی اور اگلے روز کی تاریخ دی گئی۔سپریم کورٹ نے چند روز پہلے تمام ماتحت عدالتوں کو ہدایت کی ہے کہ نیب کے مقدمات کی سماعت میں التواء نہ دیاجائے۔سوال یہ نہیں کہ نون لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت کیاکہہ رہی ہے، حقیقت وہ ہے جو عدالت میں دیکھی جا رہی ہے۔شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کی عدالت میں حاضری سے استثناء کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت نے انہیں اشتہاری قراردینے کی کارروائی کاآغاز کر دیا ہے۔ اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ آئندہ اپنی سماجی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکیں گی، اس کے علاوہ انہیں ان تمام مراحل سے بھی گزرنا ہوگا جواشتہاری ملزمان کے لئے لازمی ہیں۔گویا انہیں قانون کی وہی تشریح قبول کرنا ہوگی جو دیگر ملزمان کے لئے رائج ہے۔نہ اپنی مرضی کی لمبی تاریخیں مل سکیں گی اور نہ ہی من پسند اسپتالوں طویل قیام کا موقع ملے گا۔نون لیگ کے سپریم لیڈرنواز شریف پہلے ہی اشتہاری قرار دیئے جا چکے ہیں۔تجزیہ کا ر اپنی اپنی معلومات اور فکری سمت کے مطابق دو خانوں میں منقسم ہیں۔ ایک گروپ نون لیگ کے بیانیے کو جمہوریت کے لئے خوش آئند سمجھتا ہے جبکہ دوسرے گروپ کی رائے ہے نواز شریف نے حسب عادت ایک بار پھربم کولات ماری ہے۔روزانہ کی بنیادوں پر سماعت ہونے سے یہی نظر آتا ہے کہ دونوں میں سے کس کی رائے حقیقت سے قریب تر ہے اس کا فیصلہ زیادہ دور نہیں۔اگر نواز شریف بیانیہ جیت جاتا ہے تو انہیں ایئرپورٹ سے ان کی رہائشگاہ تک پہنچانے کے لئے عوام کاٹھاٹھیں مارتاسمندر چند ہفتوں بعد(دسمبر سے پہلے)ایئرپورٹ کی جانب رواں دواں ہوگا۔ جیسا جنرل محمدضیاء الحق کے دور میں پی پی پی کی چیئر پرسن محترمہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کے موقع پر دیکھا گیا تھا۔لیکن ملکی سیاسی منظر نامہ اس کی حمایت نہیں کرتا۔ سپریم لیڈر نون لیگ کے چھوٹے بھائی اور بھتیجے کو شدید تکلیف کے باوجود بکتر بند گاڑی میں لایا گیا اور اس”ظلم و بربریت اوراندھے سیاسی انتقام“ کے خلاف نون لیگ کی جانب سے سوائے بیان بازی کے کچھ نہیں کیا گیا۔ عوامی سطح پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا بلکہ نون لیگ کے اندر ٹوٹ پھوٹ کاعمل تیز ہوگیا ہے۔ پہلاجاندار اختلاف یا احتجاج چوہدری نثار علی خان کی جانب سے سامنے آیا تھا کہ وہ نواز شریف کو اپنا قائد مانتے ہیں مگر اپنے ہاتھوں میں کھلائی ہوئی بچی (مریم نواز)کو قائد نہیں مان سکتے۔یہ موروثی سیاست کے خلاف پاکستان میں پہلی آواز بن کر ابھری۔اب حافظ حسین احمد کی صورت میں جے یو آئی میں اختلافی بحث شروع ہو گئی ہے اور اس کا سبب بھی نواز شریف بیانیہ ہے جو سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق تک پہنچتے پہنچتے دھواں دینے لگا ہے۔اس کی لپیٹ میں پی ڈی ایم کی دیگر جماعتیں بھی آگئی ہیں۔نون لیگ کے رہنما احسن اقبال کا یہ کہنا کہ جو مستعفی ہونا چاہتا ہے، ہوجائے؛ اور ان کے بعد پرویز رشید کی یہ دلیل کہ نون لیگ کے رہنما جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کوئٹہ جلسے میں کرسی نہ ملنے کی وجہ سے ناراض ہیں، موجودہ تناظر میں درست نہیں۔ 7نومبر کو سب کچھ سامنے آجائے گا۔ معلوم ہوجائے گاکہ قبائلی تنگ نظری ہے یا نواز شریف کے بیانیے کی شکست ہے؟یا اسے بلا سوچے سمجھے اناڑی پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان دیکھے ہدف کی جانب فائر کر دیا گیا ہے؟ پاکستان کی جغرافیائی سطح ہی مختلف نہیں،یہاں کے عوام کی سیاسی فکر بھی صوبائی لحاظ سے کم از کم تین مزاج رکھتی ہے، سہ رنگی ہے۔اول پنجاب، دوم پختون اور سوم بلوچ فکر نمایاں ہے۔نیپ(نیشنل عوامی پارٹی) نے ماضی میں پہاڑوں پر جانے کا فیصلہ کیا تو بلوچ اس فیصلے پر عمل کرتے ہوئے پہاڑوں پر چلے گئے،مگر پختون اپنے مفادات کے پیش نظر ایسا کرنے میں ناکام رہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ انہیں متحدہ پاکستان میں جو کاروباری سہولیات میسر ہیں،روزگار کے مواقع دستیاب ہیں وہ پختونستان کی علاقائی حدود میں نظر نہیں آتی تھیں۔ان کے برعکس بلوچ سیاسی قیادت سمجھتی تھی (اور اب بھی سمجھتی ہے) کہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے تقریباًآدھا پاکستان ہے، اس کی آبادی بہت کم ہے جبکہ وسائل کی بہتات ہے۔70کی دہائی میں شہنشاہ ایران رضاشاہ پہلوی نے یہ اعلان کرکے بلوچ رہنماؤں کو سوچنے پر مجبور کر دیا تھا کہ وسیع تر بلوچستان میں اگر ایران نے اپنا حصہ مانگنے کے نام پراقتدارپر قبضہ کرلیا تو بڑی مشکل میں پھنسنے کا خطرہ ہے۔پاکستانی حکمرانوں سے لڑ بھڑ کر جو کچھ حاصل کر سکتے ہیں وہ بھی ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔لیکن اس دوران نیپ(پختون/بلوچ)د و حصوں میں منقسم ہونے سے نہ بچ سکی۔ چنانچہ پنجاب اپنی آبادی کی کثرت کے بل پر اپنی فکر کے ساتھ بالادست رہا۔لیکن سیاست دان 28مئی1998کے ایٹمی دھماکوں کے بعد مقتدرہ کی سو چ میں پیدا ہونے والی غیر محسوس تبدیلی کو سمجھنے میں ناکام رہے یا انہوں نے دانستہ ادھر دیکھنے سے گریز کیا۔ایٹمی دھماکوں کے بعد مقتدرہ کو اندرون ملک کے علاوہ عالمی سطح پرزبردست پذیرائی ملی۔ڈالر کی بیرون ملک منتقلی روکنے کے نتیجے میں مشکلات پیدا ہوئیں مگر سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نے کھل کر مدد کی۔نون لیگ کو پرویز مشرف کے عتاب سے بچانے میں بھی کام آئی۔مگر آج اس واقعے کو 22 سال گزر چکے ہیں۔ایف اے ٹی ایف کی شکل میں منی لانڈرنگ پر ایک چوکیدار بٹھا دیا گیا ہے۔ 27کڑی شرائط
پاکستان کو پوری کرنا ہیں۔نون لیگ عالمی سوچ کی اس تبدیلی سے بھی آنکھیں بند کئے بیٹھی ہے۔بد قسمتی سے نون لیگ اور پی پی پی کی قیادت کو ایک جیسے الزامات کا سامنا ہے اور یہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کی زد میں ہیں۔پی ڈی ایم سے مشاورت کے بغیر اعلان کردہ بیانیہ اجتماعی روپ نہیں دھار سکا۔واضح رہے سیاسی جنگ غلطیوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔حقائق کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ سامنے آرہا ہے۔بکتر بند گاڑی اس کا علامتی مظہر ہے۔


