بلوچ کونسلز سے تعلق نہیں،پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تنظیم سازی شروع کرینگے، بی ایس او پجار
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے کہی سو طلباء اس وقت اسلام آباد اور پنجاب میں زیر تعلیم ہے لیکن کہی برسوں سے وہاں سیاسی اجاراداری کا نظام قائم رہا کہی بار ہم نے یونیورسٹی میں مسائل کو سیاسی طریقے سے اٹھانے کی بات کی لیکن کچھ سازشوں کے پیداواری اور صلاحیتوں سے عاری افراد نے آن کی مخالفت کی لیکن اب جب بات بلوچ کی بقاء اور طلباء کے مستقبل کا پے تو کسی صورت پیچھے نہیں ہٹھینگے بی ایس او پجار کونسلز سے مکمل علیحدگی کا اعلان کرتی ہے اور تمام ممبران کو تاکید کرتی ہے کے فوری طور پہ کونسل سے علیحدہ ہوجاے ۔ اسلام آباد سمیت پنجاب کے دیگر یونیورسٹیوں میں جلد تنظیم سازی شروع کرینگے
ترجمان نے کہا کے مرکزی قیادت نے برملا اسلام آباد کے طلباء نمائندوں کو کہی بار مختلف طریقوں سے پیغام پہنچایا تاکے جو سیاسی کمی دیکھی جارہی ہے اسے دور کیا جاسکے لیکن مشترکہ مفادات، اور بلوچ کے بقاء کے بجائے کچھ افراد نے اپنے تعلقات بنانے اور چندہ خوری کا دھندہ گرم کرکے اتحاد اور اپنے ساتھ سینکڑوں طلبہ کے سیاسی وابستگی کا فیصلہ ایک فرد کا تھا جس کا اظہار طلباء کے کٸی مجلسوں میں ہم نے کیا لیکن فیصلے کو مسلط کیا گیا جسے پہلے دن مسترد کرچکے ہیں لہذا آج سے بی ایس او پجار کا بلوچ کونسل سے کوٸی تعلق نہیں ہمارے کامریڈز اپنے ساتھیوں کو فکری و نظریاتی بنیادوں پہ تیار کرکے تنظم کاری تیزکردیں کیونکہ ان حالات اور مصائب کا مقابلہ صرف نظریاتی کامریڈ ہی کرسکے گے فکر فدا و فکر حمید کا جھنڈا اسلام آباد اور لاہور میں لہرانے کے لیے کامریڈ اپنے کوششوں کو زیادہ موثر بناے ۔


