گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج
گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج سامنے آچکے ہیں۔ووٹرز ماضی میں اسی پارٹی کو زیادہ ووٹ دیتے تھے جس کے پاس اسلام آباد میں اقتدار ہو، انہوں نے اپنا سیاسی رویہ حسب سابق کے مطابق برقرار رکھا۔حالیہ انتخابات میں بھی انہوں اسی پارٹی کو سب سے زیادہ ووٹ دیئے جس کے چیئرمین آج ملک کے وزیراعظم ہیں۔اس کی وجہ بڑی سادا ہے: انہیں اپنے مسائل کا حل چاہیئے۔مسائل حل کرنے کے لئے وسائل(فنڈز) درکار ہوتے ہیں،اوریہ فنڈزوفاق فراہم کرتا ہے بشرطیکہ ایسا کرنا چاہے۔ اس کے علاوہ سابق حکومت کی کارکردگی ووٹرز دیکھ چکے ہوتے ہیں،اس کارکردگی سے عدم اطمینان کے اظہار کا جیسے ہی موقع ملتا ہے، کھل کر اظہار کر دیتے ہیں۔ان کے مسائل حل نہ کئے جائیں تو وہ ووٹ نہیں دیتے۔آزاد امیدواروں کی تعداد پی ٹی آئی سے معمولی سی کم ہے،اور یہ اپنے ووٹرز کے مسائل حل کرانے کی امید لے کر حکومت بنانے والی سیاسی پارٹی(اس بارپی ٹی آئی) میں باقاعدہ شمولیت کااعلان کرنے کا عندیہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک سے زائد مرتبہ دیتے رہے تھے، ان کے ووٹرزپہلے سے جانتے تھے۔خیبر پختونخوا کے عوام نے اپنی دیرینہ روایت کے برعکس 2018 کے انتخابات میں سابق حکمراں جماعت کو دوبارہ منتخب کرنے کا فیصلہ کیا۔پنجاب کے ووٹرز کی بڑی تعدادسابق حکمراں جماعت(مسلم لیگ نون) کی کارکردگی سے مطمئن تھی،آج نون لیگ کا پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہے۔قومی اسمبلی میں بھی قائد حزب اختلاف کا عہدہ نون لیگ کے پاس ہے۔صوبہ سندھ میں لگاتار تیسری بار پی پی پی کی حکومت برسراقتدار آئی۔بلوچستان میں نون لیگ کے وزیراعلیٰ سردار ثناء اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تو انہوں نے اس کادفاع کرنے کی بجائے مستعفی ہونے کا آپشن استعمال کیا،اس کے نتیجے میں نوزائیدہ سیاسی جماعت بی اے پی(باپ) کو راستہ ملا۔ایسی غیر معمولی تبدیلی کسی غیر معمولی حمایت کے بغیررونما ہوناآج تک ایک انہونی اور سیاسی معجزہ سمجھی جارہی ہے۔
گلگت بلتستان کے انتخابات سے پہلے ایسا کوئی معجزہ دیکھنے میں نہیں آیا۔یہ پہلے انتخابات ہیں جو فوج کو پولنگ اسٹیشنز کی حفاظت کے لئے بلائے بغیر منعقدہوئے۔ہمسایہ ملک کی جانب سے متوقع دہشت گردی کے باوجود سارا انتظام پولیس نے سنبھالا۔یہ بڑی خبر تھی، اسے مناسب طور پر نہیں سراہا گیا۔دوسری بڑی خبر یہ رہی کہ اچانک بارش اور برفباری شروع ہوجانے کے باوجود ووٹرزکی بڑی تعداد نے اپنے اپنے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالا۔اس دوران کوئی بدمزگی دیکھنے کو نہیں ملی۔ پولنگ اسٹیشنز سے کچھ فاصلے پر کسی امیدوار نے اپنا کیمپ نہیں لگایا۔یہی طریقہ کار پاکستان کے چاروں صوبوں میں بھی آزمایاجاناچاہیئے۔ اس کے دوفائدے ہوں گے: اول یہ کہ امیدوارکیمپ لگانے کے اخراجات سے بچ جائے گا،اور دوم یہ کہ پولنگ اسٹیشنز پر جو ہلڑ بازی دیکھی جاتی ہے اس سے بھی چھٹکارہ مل جائے گا۔ اب تو الیکشن کمیشن کی جانب سے ہر ووٹر کو اس کے پولنگ اسٹیشن اور سیریل نمبر کی براہ راست اطلاع دی جاتی ہے۔سیاسی پارٹیا ں انتخابی اصلاحات میں دلچسپی لیں تو دھاندلی کے امکانات ختم کئے جاسکتے ہیں۔صرف الزامات عائد کرنے کی فرسودہ روایت سے گلوخلاصی کی ضرورت ہے۔سوتنوں کی طرح ایک دوسرے کو سنے کاسلسلہ بند ہونا چاہیئے۔نظریہئ ضرورت کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے۔اس لفظ یااصطلاح کے پارلیمنٹ اور عدالتوں میں استعمال کو قابل سزا جرم قرار دیا جائے۔سارے سیاسی اور اخلاقی بگاڑ اور پستی کی آبیاری اور پرورش اسی”نظریہئ ضرورت“ کی چھتری تلے کی گئی ہے۔آئین کو اسی اصطلاح کے قدموں تلے روندا گیا ہے۔پارلیمنٹ کے تمام اختیارات شخص واحد کوتین سال کے لئے تفویض کا مجاز بنایا گیا۔اب وقت آگیا ہے کہ اس غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر سیاسی رجحان کا قلع قمع کیا جائے۔
اس میں شک نہیں کہ ماضی میں غلطیاں ہوئیں،کوئی ادارہ خود کو اس سے بری الذمہ نہیں کہہ سکتا۔73سالہ تاریخ شائد ہے۔لیکن اس کا ماتم کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، زندہ اقوام اپنی غلطیوں سے سیکھ کر ایک نئے عزم و حوصلے کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔جرمنی اورجاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔جاپان نے دوامریکی ایٹم بموں کی تباہ کاریوں کو اپنی دھرتی پر عذاب بن کر اپنی آنکھوں سے نازل ہوتے دیکھا۔اپنے عوام(بوڑھے،بچے اورعورتوں سمیت)سب کو اذینت ناک حالت میں برسوں دیکھا۔جرمنی نے دو طویل جنگوں میں شکست کھائی،بھاری تاوان ادا کیامگر آج دونوں ملکوں نے اپنی درست سیاست اورانتھک محنت کی مدد سے شاندار معاشی اورمعاشرتی ترقی کی اور ایک بار پھر بنا پر عالمی برادری میں انہیں باوقار مقام حاصل ہے۔ پاکستان بھی اپنی حکمت عملی میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرکے اپنے جفاکش عوام کی محنت اور ذہانت کو بروئے کار لائے، اپنے قدرتی وسائل سے استفادہ کرے تو مختصر عرصے میں غربت، جہالت، بیماری اور بیروزگاری سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔غیرملکی فشنگ ٹرالرز بلوچستان کی حدود میں سمندری وسائل لوٹ رہے ہیں انہیں کوئی روکنے والا نہیں۔ذاتی مفادات نے ذمہ داروں کی بینائی چھین لی ہے اور قوت بازو مفلوج کر رکھا ہے۔مقامی ماہی گیروں کو ان کے رزق سے محروم کرنے کا سلسلہ دن رات جاری ہے۔ سیاست دان چپ ہیں،مگر کیوں؟تانبے اور سونے کے ذخائر جس طرح غیروں کے حوالے کئے گئے اس کے حقائق سامنے آنے کا انتظارکریں، کئی نورانی چہرے اپنی پارسائی کے نور سے محروم دکھائی دیں گے۔یاد رہے جو آئین اپنا تحفظ نہ کر سکے اس کے ساتھ وہی کچھ ہوتاہے جوصومالیہ،سوڈان،عراق، شام، مصر،لیبیاء اورافغانستان میں ہو چکا ہے۔پہلے آئین کو اتنا صحتمند اور توانا بنایاجائے کہ وہ کسی ادارے کے لئے موم کا مجسمہ نہ بنے۔کبھی ”نظریہئ ضرورت“ کے سامنے سربسجود نہ ہو۔یہ کام عوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔7ستمبر 2020تک آرمی چیف سے سیاسی اور قانونی مراعات مانگنے والے ہر گزنہیں کر سکتے۔


