300سے بڑے اجتماعات پر پابندی

اداریہ
دنیا بھر میں کورونا نے ایک بار پھر تیزی سے بڑھنا اور پھیلاشروع کر دیا ہے۔پاکستان میں ہرروز متأثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں اگلے روز 1200افراد کورونا کی بناء پر ہلاک ہوگئے۔دنیا میں متأثرہ افراد کی تعداد5کروڑ 65لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ مجموعی اموات کی تعداد بھی 13لاکھ 52ہزار تک ہو چکی ہے۔ایران اور بھارت میں بھی کورونا بے قابو ہوتا دکھائی دیتا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے شادی ہالوں پر عائد کردہ پابندی کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت قومی سطح کے فیصلوں میں داخلت نہیں کر سکتی۔درخواست گذار کے وکیل سے پوچھا گیا کہ آپ کے والد(چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ) کورونا کی وجہ سے فوت ہو گئے ہیں۔کورونا کی صورت حال دیکھتے ہوئے ہمیں بہت ساری چیزیں خودبند کر دینی چاہئیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکا فیصلہ مفاد عامہ کا فیصلہ ہے جبکہ قومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد ہر شہری کا فرض ہے۔اس موقع پر سیاسی قیادت کو ذمہ داری کاثبوت دینا ہوگا۔وائرس پھیلنے یا اموات ہونے پرجلسے، جلوس اور دیگر اجتماعات کے منتظمین کے خلاف مقدمات درج ہو سکیں گے۔فیصلہ کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگی۔300سے زائد انڈور اجتماعات پر پابندی کا اطلاق آج سے ہوگا۔ مقامی انتظامیہ ماسک پہننے کی پابندی کو یقینی بنانے گی۔شادی کے گھریلو اجتماع پر مکمل پابندی ہوگی۔کھلی جگہوں پر ہونے والے شادی اجتماعات کے لئے زیادہ سے زیادہ 300کی سفارش کی گئی ہے۔ریسٹورینٹس کے ہال میں کھانا کھانے کی مشروط اجازت دی گئی ہے جس میں ایس او پیز پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیاہے۔
حکومت پہلے ہی کورونا کی تازہ لہر کی روک تھام کے لئے عوام سے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی اپیلیں کررہی تھی۔ماسک وافر مقدار میں سستے داموں دستیاب ہیں۔گھر میں باآسانی تیار کئے جا سکتے ہیں۔سردیوں کا موسم ہے مفلر سے بھی یہ ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔ضد اور ہٹ دھرمی کا خاتمہ قانون کے ذریعے ممکن ہے۔اب گیند پی ایم ڈی کے کورٹ میں ہے۔22نومبر کو پشاور میں جلسہ ان کے احتجاجی پروگرام کا حصہ ہے۔اس کے بعد ملتان اور لاہور میں بڑے جلسوں کی تیاری جاری تھی۔عدالتی فیصلہ آنے کے بعد مناسب تو یہی نظر آتا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیا جائے، عدالتی فیصلے کا احترام کیاجائے، اسے ذاتی انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔دانشمندی کا تقاضہ ہے مفاد عامہ کاخیال رکھا جائے۔عوام کی جان سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں ہوسکتی ملک بھر میں تعلیمی ادارے ایک بار پھر کورونا کی وجہ سے بند کرنے کی تجاویز تیار ہوچکی ہیں۔صوبائی مشاورت اور منظوری کے بعد ان پرعمل درآمد شروع ہو جائے گا۔نیویارک کے تعلیمی ادارے بھی بند کئے جا چکے ہیں۔پاکستان ان خوش قسمت ممالک میں سے ایک ہے جہاں کورونا نے بہت کم نقصان پہنچایا ہے۔اسی لئے عوام کی اکثریت کو ابھی تک کورونا کی تباہ کاریوں کے حوالے سے شبہ ہے۔لوگ نجی محفلوں میں اسے حکومتی یا غیر ملکی پروپیگنڈا کہتے ہیں۔بعض اسے غریبوں کی بیماری تسلیم نہیں کرتے۔دکاندار ماسک نہیں پہنتے۔اب عدالتی حکم آنے کے بعداگر انتظامیہ نے دلچسپ لی تو امید کی جاسکتی ہے کہ اکثریت ماسک پہنے نظر آئے گی۔کراچی کے ضلع جنوبی اور بعض دیگر علاقوں میں ماسک نہ پہننے پر جرمانے کئے جانے کی اطلاعات میڈیا نے نشر کی ہیں۔ویسے بھی ہر شہری کوسوچنا چاہیئے کہ ماسک نہ پہن کر وہ کون سی بہادری کا مظاہرہ کر رہاہے۔اس احمقانہ اقدام کے ذریعے وہ اپنی اور اپنے خاندان کے لئے مسائل پیدا کرنے کے علاوہ کوئی تمغہ حاصل نہیں کرے گا۔جاہلیت پر اڑے رہنابیوقوف لوگوں کی نشانی ہے۔عقلمند لوگ خود کو اور اپنے خاندان والوں کوبیماریوں سے بچاتے ہیں۔پاکستانی شہریوں کوبہتر رویہ اپنانا چاہیئے اورسیاست دان اس ضمن میں مثبت کردار ادا کریں۔
عام آدمی اتنا بھولا نہیں کہ اسے بھیڑوں بکریوں کی طرح ہانک کر اپنی پسند کے کھونٹے سے باندھا جا سکے۔خصوصاً آج یہ کام جدید ٹیکنالوجی نے مزید مشکل بنا دیا ہے۔ساری دنیا کی معلومات نوجوان نسل کی ہتھیلی پر ہر وقت موجود ہیں۔سیاست دان جدید ٹیکنالوجی کے محاسن اور خوبیوں سے آگاہ نہیں اس لئے انہیں اس مخفی قوت کا درست اندازہ نہیں۔یہ لوگ اپنے ماضی کی چاردیواری میں بند ہیں، انہیں گلگت بلتستان کے نتائج آنے کے بعد بھی یقین ہے کہ جنوری2021 میں کوئی غیبی قوت پی ٹی آئی کی حکومت ختم کرکے اسلام آباد ان کے حوالے کر دے گی۔ زمینی حقائق کی جانب یہ لوگ آنکھ اٹھا کر دیکھنے کو تیار نہیں۔انہیں سمت دیکھے بغیر چلنے کی عادت پڑ گئی ہے، یوں لگتا ہے کہ انہیں ”منزل نہیں رہنما“چاہیئے۔حالانکہ یہ نعرہ اپنی جاذبیت کھو کر مدت ہوئی پیوند خاک ہوچکا۔وقت کے تھپیڑوں نے اس”رہنما“ کی صورت اتنی بگاڑ دی ہے آئینہ دیکھ کر خوف زدہ ہو جاتا ہے۔جو افراد یا قومیں منزل کی جگہ افراد کو اہمیت دیتی ہیں انہیں انجام کار مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔خود کو عقل کل سمجھنے والے صدام حسین کا آج کوئی نام نہیں لیتا، کرنل قذافی کو کوئی یاد نہیں کرتا۔تاریخ سے یہ سبق ملتا ہے جو رہنماان جیسا کردار ادا کرے گاانہی جیسے انجام کو پہنچے گا۔پاکستانی سیاستدان کم از کم جدید تاریخ ہی پڑھ لیں، منز ل کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا۔پاکستانی عوام کو وہ منظر یاد ہے کہ ایک سرکاری افسر کی ریٹائرمنٹ پر خوشی کے شادیانے بجائے گئے تھے، کہا گیا تھا:”طوفان گزر گیا، جو کمزور درخت تھے اکھڑ گئے جو مضبوط تھے اب بھی کھڑے ہیں“۔وقت نے جشن منانے والوں کے اندازے غلط ثابت کر دیئے۔طوفان اپنی جگہ موجود ہے۔آثار یہی بتا رہے ہیں،شائد آنے والے دنوں میں مزید کچھ کمزور درخت اپنی جڑوں پر کھڑے نہ رہ سکیں، اکھڑ جائیں اور دور جا گریں۔یاد رہے جو لوگ جنوری سے آس لگائے بیٹھے ہیں، جنوری زیادہ دور نہیں چالیس دن کی دوری پر ہے جہاں 73 برس گزر گئے یہ چالیس دن بھی گزر جائیں گے۔بزرگ کہتے ہیں: ”پہلے تولو پھر بولو!“

اپنا تبصرہ بھیجیں