چمن فائرنگ واقعہ میں زخمی وجاں بحق افراد کے لواحقین میں امدادی رقو م کی تقسیم
چمن:صوبائی وزراء ضیاء اللہ لانگو، انجینئر زمرک خان اچکزئی اور عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ عوام کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، چمن بارڈر پر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ کے غمزدہ خانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، چمن کے تاجروں کے تجاویز وفاقی حکومت کو پیش کریں گے، چمن بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں بحال ہے، افغانستان کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چمن بارڈر پر پیش آنے والے واقعہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین میں امدادی چیک تقسیم کرنے کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ڈپٹی کمشنر طارق جاوید مینگل، چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی جلات خان اچکزئی، عمران کاکڑ، آل پارٹیز تاجر اتحاد کے رہنماؤں و دیگر بھی موجود تھے۔ اس سے قبل صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر اچکزئی اور صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی کے ہمراہ چمن کے دورے پر پہنچے اور ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ کے آفس میں چمن بارڈر پر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ میں شہید و زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ میں بالترتیب پندرہ پندرہ اور پانچ پانچ لاکھ روپے کی امداد چیک تقسیم کئے۔ تقریب سے مہمان خصوصی صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو، ایم پی اے و صوبائی صدر عوامی نیشنل پارٹی اصغرخان اچکزئی اورصوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم غمزدہ خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہے ہم نے چمن کے عوام کا تاجروں کے تجاویز حکومت کو پیش کیے ان کے تجاویز وفاق کو بھی پیش کردیں جس پر الحمداللہ 90 فیصد عملدرآمد ہوا ہے چمن بارڈر کھل چکاہے تجارتی سرگرمیاں بحال ہوچکے ہیں حکومت پاکستان حکومت بلوچستان افغانستان کے ساتھ مل کر تجارتی سرگرمیوں مزید فروغ دے رہی ہیں ہماری خواہش ہے کہ دونوں ممالک تجارت کو مزید فروغ دیں یہاں پہ تجارتی سرگرمیاں بحال ہوگی تو دونوں برادر۔ممالک کے تعلقات اچھے ہونگے چمن بارڈر سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے بارڈر پر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ میں 5افراد جاں بحق جبکہ 22زخمی ہوگئے تھے۔


