چمن بارڈر پر تاجروں اور سیکیورٹی اہلکاروں میں کشیدگی، فائرنگ سے ایک شخص ہلاک 4 زخمی

کوئٹہ+چمن(انتخاب نیوز) چمن میں پاک افغان بارڈر پر مقامی تاجروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان کشیدگی کے دوران فائرنگ سے 4 افراد زخمی ہوگئے۔ چمن میں پاک افغان بارڈر باب دوستی پرمقامی تاجروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تصادم ہوگیا، اس دوران فائرنگ سے 4 افراد زخمی ہوگئے۔بلوائیوں نے بارڈر پر موجود سرکاری دفاتر جلادیے جس کے بعد شہر میں حالات کشیدہ ہونے کے باعث سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔لیویز حکام کے مطابق افغانستان سے چمن پیدل آنے والے تاجروں سے دستی سامان پکڑنے پر تاجروں نے احتجاج کیا تھا۔فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کی حالت نازک ہونے پر انہیں کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے۔ادھرروزگار بحالی کمیٹی چمن کے رہنماؤں نے پاک افغان سرحد پر سیکورٹی فورسز کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ فائرنگ سے ایک شہری جاں بحق جبکہ 6زخمی ہوئے ہیں،اس طرح کے واقعات سے عوام کے دلوں میں فورسز کیلئے نفرت بڑھتی جارہی ہے ،حکومت سرحدی علاقے میں حالات خراب کرنے کی بجائے عوام کے ساتھ تعلقات بہترکرے ۔ان خیالات کااظہار روزگار بحالی کمیٹی کے صدر حاجی داروخان،جنرل سیکرٹری حاجی عین الدین،کنوینر جان محمد،اخترمحمد،حاجی محمد نے پریس کلب چمن میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پاک افغان سرحد پر مشتعل ہجوم پرباڈر سیکورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ سے چھ افراد زخمی جبکہ ایک شہید ہوا واقعہ کے سدباب معلوم نہ ہوسکے تمام زخمیوں کو چمن سول ہسپتال منتقل کرنے کے بعد شدید زخمیوں کو کوئٹہ ریفرکردیاگیا جس میں ایک زخمی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ پریس کلب چمن میں روزگار کمیٹی کے عہدیداروں نے پریس کانفرنس سے اپنے خطاب میں مزیدکہاکہ اس طرح کے واقعات سے عوام میں مزید اشتعال کو ابھارا جارہاہے جوکہ اچھی بات نہیں ہے دریں اثناء پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے پریس ریلیز میں ڈیورنڈ لائن چمن پرفورسز کی جانب سے ایک بار پھر پر امن نہتے اور معصوم شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ او ردرجنوں کے شدید زخمی ہونے کی پشتون دشمن واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئے روز چمن اور بالخصوص ڈیورنڈ لائن پر بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایاجارہاہے اور گزشتہ مہینوں سے چمن کے ڈیورنڈ لائن کی مسلسل بندش اور اس کو دوبارہ 2مارچ کی پوزیشن پر بحالی کیلئے عوام احتجاج کررہے تھے اور پھر 30جولائی کو عین عیدالضحیٰ سے ایک دن قبل معصوم اور بے گناہ لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس کی وجہ سے ایک خاتون سمیت 6افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اور آج ایک بار پھر بغیر کسی وجہ سے معصوم اور نہتے عوام پر فائرنگ کی گئی جس کی وجہ سے اب تک درجنوں لو گ شدید زخمی اور زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ اس صورتحال نے عوام اور سیاسی جمہوری پارٹیوں کو سخت احتجاج پر مجبور کردیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیورنڈ لائن پر سرحدی تجارت اور آمدورفت پر مختلف حیلے وبہانوں سے بندش پشتون عوام کا معاشی قتل عام کیا جارہا ہے اور یہ سب کچھ ایک خاص منصوبے کے تحت ہورہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ باڈر کی بندش کیلئے گزشتہ 20سالوں سے سازشیں کی جارہی ہیں پشتون قوم کو آپس میں لڑانے کی کوششیں کی گئی اور کبھی دہشتگردی کی روک تھام کا بہانہ کرکے سرحدی تجارت وآمدورفت پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخوامیپ نے ہمیشہ عوام دشمن پشتون دشمن اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت اور اداروں کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام صوبے خصوصاً پشتون علاقوں سے چیک پوسٹیں ختم کیئے جائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں