2018ء کے الیکشن میں ووٹ کی امانت میں خیانت کی گئی، ہم حساب لینگے، شاہد خاقان عباسی
فیصل آباد :سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 2018ء کے الیکشن میں آپ کے ووٹ کی امانت میں خیانت کی گئی، ہم حساب لینگے، ہمارے مسائل کا حل آئینی کی بالادستی میں ہے، صاف اور شفاف الیکشن کرائے جائیں۔ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباس نے کہاکہ ہزاروں کی تعداد میں ور کرز اکٹھے ہیں انشاء اللہ آپ کے جذبہ اور محنت سے پاکستان کی سیاست کو نیا رکھ دینگے۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم کی تحریک کسی اقتدار کی جنگ نہیں ہے، یہ وہ تحریک ہے جس میں مسلم لیگ (ن)سب سے آگے ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں ملک میں مشکلات اور خرابیوں کا سد باب کیا جائے اور عوام کو بہتر مستقبل دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ عوام کی مشکلات کو دور کر نے کا صرف آئین کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہر آدمی مہنگائی سے تنگ ہے،مہنگائی وہ تحفہ ہے جو عمران خان نے دیا، عمران خان کو لانے والوں نے دیا ہے، ہمارا اختلاف آئین سے توڑنے والوں سے ہے، اختلاف معیشت کو تباہ کر نے والوں سے ہے، اگر ہم نے مہنگائی کو ختم کر نا ہے تو آئین پر عمل کر نا ہوگا، معیشت بہتر بنانی ہے تو آئین پر چلنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ 2013ء میں سولہ سولہ گھنٹے بجلی نہیں ہوتی تھی، نواز شریف کے دور میں بجلی اور گیس بھی تھی، اگر پاکستان چلتا رہتا تو پاکستان کا بہت بلند مقام ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں ایسا حکمران آیا جس کی سوچ چھوٹی ہے وہ عوام کی تکلیف کی بات کر نے کی بجائے اپوزیشن کی بات کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ ماضی کی اپوزیشن نہیں ہے، مسلم لیگ (ن) پر الزام لگتا تھا وہ جدوجہد میں آگے نہیں ہوتے، جیل میں سب سے پہلے نوازشریف گیا، جیل میں مریم نواز، رانا ثناء اللہ، شہباز شریف جیل میں گئے۔ انہوں نے کہاکہ سیاستدانوں پر بھینس چوری کا الزام لگایا جاتا تھا، آج کے حکمرانوں نے رانا ثناء اللہ پر پندرہ کلو ہیروئن ڈال دی، یہ شرم ناک باتیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک میں نام نہاد جمہوریت ہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی، کوئٹہ،پشاور اور گوجرانوالہ میں تاریخی جلسہ تھا، ملتان میں جلسہ کو روکا گیا، پھر بھی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کیا گیا۔سابق و زیر اعظم نے کہاکہ عوام نے تیرہ دسمبر کو باہر نکلنا ہے، پورا پاکستان دیکھے گا لاہور میں جلسہ کیسے ہوتا ہے؟ ایک تاریخ ساز جلسہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ یہ اقتدار کی جنگ نہیں ہے یہ نو جوانوں کے مستقبل کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے پی ڈی ایم کی تحریک کو کامیاب کر نا ہے اور پاکستان کی سیاست کا رخ تبدیل کر نا ہے۔انہوں نے کہاکہ 2018ء کے الیکشن کو چوری کیا گیا، آپ کے ووٹ کی امانت میں خیانت کی گئی ہم نے اس کا حساب لینا ہے، عوام کو ایک بار پھر اپنی رائے کا حق دینا ہے اور ایسا نمائندہ آئے جو پاکستان کے عوام کے مسائل حل کر سکے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے مسائل کا حل آئینی کی بالادستی میں ہے۔رانا ثناء اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف نے کسی کو گالی دی ہے نہ برا کہا ہے، نوازشریف نے عمران خان کا نام تک نہیں لیا، نوازشریف کا موقف ہے ملک آئین اور قانون کے مطابق چلنا چاہیے، عوام کے ووٹ کو عزت ملنی چاہیے، عوام کے ووٹ کے فیصلے کو تسلیم کیا جاناچاہیے، پاکستان کو ہمارے آباؤ اجداد نے سیاسی جدوجہدکے نتیجے میں وجود میں آیا۔ انہوں نے کہاکہ نوازشریف کہتا ہے پاکستان کو ووٹ کی طاقت سے چلایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کوئی نیا تجربہ کر نے کی پوزیشن میں نہیں ہے، ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کرائے جائیں اورجو جماعت کامیاب ہو وہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اقتدا ر میں آئے۔راناثناء اللہ نے کہاکہ عمران کو لانے کیلئے بڑے بڑے قصے گھڑے گئے، مریم نواز نے ملتان میں کہا بندہ ایماندار ہے اور پھر ساری خرابیاں گنوائیں۔ اس موقع پر راناثناء اللہ نے وزیر اعظم پر سنگین الزامات لگائے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کا خرچہ چلانے والی اے ٹی ایمز پھر آٹا، چینی، پٹرول ڈکیتی سے کماتی ہیں، ادویات ڈکیتی سے سینکڑوں ارب کماتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکمران مخالفین کے خلاف جھوٹی مقدمات بنائے ہیں، احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف ریفرنس بنائے،شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ میرا مقدمہ میڈیا کے سامنے چلایا جائے۔انہوں نے کہاکہ ہم اب عمران خان کو نہیں چھوڑینگے۔ انہوں نے کہاکہ پوری طاقت کے ساتھ لاہور میں جائیں گے اور یہ جہاں روکیں گے وہی جلسہ ہوگا۔میاں جاوید لطیف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سترسال سے پاکستان میں آئین اور قانون پر عمل نہیں ہوا، انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اگر آپ نے مہنگائی اور بے روز گاری کی بیماری سے چھٹکارا حاصل کر نا ہے تو آئین اور قانون کے مطابق ملک کو چلانا ہوگا۔


