امریکہ، امارات کو لڑاکا طیارے فروخت کرنے کے خلاف ووٹنگ ناکام ہو گئی
ابوظبی:امریکا کی جانب سے کچھ عرصہ قبل امارات کو لڑاکا طیارے 35-F اور Reaper ڈرون طیارے فروخت کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ جس کی بہت سے امریکی پارلیمانی ممبران نے مخالفت کی تھی اور اسے اسرائیل کے حق میں نقصان دہ قرار دیا تھا۔ تاہم امریکی کانگریس کی منظوری کے بعد آخری مرحلہ سینیٹ کا تھا، جہاں بڑی مشکل سے امارات کو طیارے فروخت کرنے کی قرارداد پاس ہو گئی۔اس حوالے سے امریکی سینیٹ میں پیش کیے گئے مخالفانہ قوانین کے دونوں مسودے مطلوبہ سادہ اکثریت بھی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ امریکی سینیٹ میں ریپبلکن ممبران کو اکثریت حاصل ہے۔امارات سے ڈرون طیاروں کی ڈیل کے حق میں 50 ووٹ دیئے گئے جب کہ اس ڈیل کی مخالفت میں 46 ووٹ آئے۔امریکی سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے لیڈر مِچ میکونل نے ارکان سینیٹ پر زور دیا تھا کہ وہ اس قانون کے مسودے کے خلاف ووٹ دیں جس میں صدر ٹرمپ کوامارات کو 23 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سینیٹ ارکان کی بڑی گنتی کی شدید مخالفت کے باوجود امارات کو طیارے فروخت کرنے کے حق میں قرارداد منظور ہو گئی۔جسے امارات کی سفارتی سطح پر بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر خارجہ غابی اشکنازی نے خلیج ٹائمز کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیل کو امارات کے ایف 35ایس طیارے حاصل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور نہ ہی اس سے معاہدہ ابراہیم متاثر ہو سکتا ہے۔اشکنازی نے اپنی گفتگو میں کہا ہمیں (اسرائیل) کو اس معاملے پر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ امارات سے ہماری کوئی دشمنی نہیں، ہماری سرحدیں بھی مشترک نہیں ہیں، اور ماضی میں ناخوشگوار یا تلخ تعلقات کی کوئی تاریخ بھی نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں امریکا کی جانب سے امارات کو لڑاکا طیاروں کی فروخت پر کوئی اعتراض نہیں۔ امریکی حکومت کی جانب سے یو اے ای کولاک ہیڈ مارٹن ففتھ جنریشن سٹیلتھ جیٹ طیارے جلد فروخت کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔امریکی حکومت نے یو اے ای کو ایف 35 طیاروں ایس طیاروں کی عنقریب فراہمی کے حوالے سے امریکی کانگریس کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔ امریکا کی جانب سے یو اے ای کو 10.4 ارب ڈالر مالیت کے پچاس ایف 35 ایس طیارے فروخت کیے جائیں گے جن میں دیگر آلات بھی شامل ہوں گے۔ اگر امارات کو یہ جدید ترین طیارے فراہم کر دیئے جاتے ہیں تووہ اس ایئرڈیفنس ٹیکنالوجی کا حامل پہلا عرب ملک ہو گا۔


