استعفیٰ آخری داؤ ہے جو ہمیشہ کی طرح ناکام ہوگا، شبلی فراز

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ نوازشریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان کرپشن کے سلطان ہیں،اپنا سب کچھ باہر بنایا اب پاکستان کی عوام سے قربانی چاہتے ہیں، اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کی الگ الگ سمیتں ہیں جن کی سمت ایک نہ ہو ا تو منزل ایک کیسے ہو سکی ہے۔اپوزیشن نے ہر طرح سے ہم پر دباؤ ڈالا،کسی طرح این آر او مل جائے، جب کوئی راستہ نہیں نکلا تو ایسا ماحول بنایا کہ لوگ مجبور ہو کر استعفے دے دیں،،اپوزیشن سے کوئی رابطے میں نہیں یہ بالکل جھوٹ ہے،یہ صرف راستہ مانگ رہے ہیں،ہم این آراو نہیں دیں گے،اپوزیشن اسی لئے آر یا پار کی باتیں کر رہی ہے،انہیں پتہ ہے ان کی سیاست ختم ہونے والی ہے،استعفوں سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا استعفے دینے ہیں تو صحیح طریقے سے دیں دکھاوا نہ کریں،یہ ان کا آخری داؤ ہے جو ہمیشہ کی طرح ناکام ہوگا جبکہ وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے کہا کہ مریم نواز اپنے باپ کی چوری بچانے کیلئے سرگرم ہیں،مولانا فضل الرحمان چوروں کا سردار ہیں، بے نظیر بھٹو جب اقتدار میں آئی تو مولانا نے فتویٰ دیا کہ عورت کی حکمرانی اسلام میں حرام ہے،ڈیزل کا پرمٹ لیکر فتوی ختم کیا،مولانا فضل الرحمن کی اربوں روپے کی بے نامی جائیدادیں ہیں،چوروں کا سربراہ بن کر اپنی چوری بچا رہے ہیں،بیرونی قوتوں کے آلہ کار بنے،ایم آئی 6سے رابطے میں رہے اجیت دوول سے بھی میٹنگ کی، آزادی مارچ کر کے مسئلہ کشمیر کو شدید نقصان پہنچایا،مولانا نے پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کیلئے باہر سے رقم لی، مولانا فضل الرحمان میرے چاروں سوالوں کا جواب دیں یا مجھے جیل لیکر جائیں۔جمعہ کو وفاقی وزیر برائے امور گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن کا مقصدکورونا کی موجودہ صورتحال میں جلسے کر کے عوام کو گمراہ کرنا ہے،ان کو لوگوں کی صحت کا کوئی خیال نہیں، یہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے،بوکھلاہٹ میں جو اقدامات بعد میں کرنے تھے یہ پہلے کر رہے ہیں، یہ واویلا عوام کیلئے نہیں،جھوٹ در جھوٹ بولا جا رہا ہے، نوازشریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان کرپشن کے سلطان ہیں،ان لوگوں نے اپنے ادوار میں عوام کا پیسہ لوٹا،پیسے کی سیاست یہ لوگ لے کر آئے، لوگوں کو خریدنا بیچنا انہی کے ادوار میں شروع ہوا، ملک کی سیاسی،سماجی اقدار کا ملیا میٹ کیا تا کہ ان جیسے لوگ سیاست کر سکیں۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان سے لوٹا پیسہ باہر بجھوایا، بیرون ملک جائیدادیں بنائیں، اپنا سب کچھ باہر بنایا اب پاکستان کی عوام سے قربانی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو پتہ چل گیا ہے ان کیساتھ کیا ہونا ہے،گلگت بلتستان انتخابات سب کے سامنے ہیں، ان لوگوں نے ہر طرح سے ہم پر دباؤ ڈالا،کسی طرح ہم ان کو این آر او دے دیں، جب کوئی راستہ نہیں نکلا تو جتھے بنا کرجلسوں میں گالیاں دے کر ایسا ماحول بنایا کہ لوگ مجبور ہو کر استعفے دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں الگ الگ جماعتیں ہیں،ان کی الگ سمتیں ہیں،جن کی سمتیں ایک نہ ہوں ان کی منزل ایک ہو ہی نہیں سکتی،اپوزیشن سے کوئی رابطے میں نہیں یہ بالکل جھوٹ ہے،یہ صرف راستہ مانگ رہے ہیں،ہم این آراو نہیں دیں گے،اپوزیشن اسی لئے آر یا پار کی باتیں کر رہی ہے،انہیں پتہ ہے ان کی سیاست ختم ہونے والی ہے، یہ بند گلی میں آگئے ہیں،استعفوں سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا استعفے دینے ہیں تو صحیح طریقے سے دیں دکھاوا نہ کریں،یہ ان کا آخری داؤ ہے،یہ بھی ہمیشہ کی طرح ناکام ہوگا،نوازشریف اور مولانا فضل الرحمان کو پتہ ہے یہ نہ پیچھے مڑ سکتے ہیں اور نہ آگے جا سکتے ہیں۔وفاقی وزیر برائے امور گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو اپنے ہی حلقے کے عوام نے مسترد کردیا،ان کا ایک ہی مقصد کرپشن کا پیسہ بچاؤ،سب مہم کرپشن کے پیسے کیلئے ہے، تاریخ گواہ ہے ان سب نے ایک دوسرے پر کیا کیا الزام لگائے اب یہ سب اکٹھے ہوگئے ہیں، عمران خان کی بات سچ ثابت ہوئی،یہ بے نقاب ہوگئے ہیں اس لئے آر پار کی باتیں کر رہے ہیں، چوری بچانے کیلئے عوام کی جانوں کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف مفرور ہیں،کرپشن سے بنائے گئے محلات میں بیٹھ کر پاکستان کے اداروں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں،مریم نواز بھی اپنے باپ کی چوری بچانے کیلئے سرگرم ہیں،مولانا فضل الرحمان چوروں کا سردار ہیں، بے نظیر بھٹو جب اقتدار میں آئی تو مولانا نے فتوی دیا کہ عورت کی حکمرانی اسلام میں حرام ہے،ڈیزل کا پرمٹ لیکر فتوی ختم کیا،یہ کرپشن بچاؤ تحریک کا سربراہ بنا ہوا ہے،مولانا فضل الرحمان کی اربوں روپے کی بے نامی جائیدادیں ہیں میرے پاس ثبوت ہیں،مجھے عدالت میں لے جائیں میں ثابت کروں گا، ان کے خلاف گھیرا تنگ ہو رہا ہے،اسی لئے چوروں کا سربراہ بن کر اپنی چوری بچا رہے ہیں،مولانا فضل الرحمان بیرونی قوتوں کے آلہ کار رہ چکے ہیں،ایم آئی 6سے رابطے میں رہے،بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت دوول سے مولانا فضل الرحمان کی میٹنگ ہوئی جس میں محبوب احمد مدنی بھی موجود تھے،مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کر کے مسئلہ کشمیر کو شدید نقصان پہنچایا،آزادی مارچ سے پہلے اور بعد میں بھی بیرونی قوتوں سے رابطے میں تھے، مولانا فضل الرحمان فرقہ واریت کا حصہ رہے، اس کیلئے انہیں بیرونی امداد بھی ملی۔وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اپوزیشن کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا،جو حلقہ کھلوانا ہے کھلوا لیں میں تیار ہوں،ا پوزیشن صرف دھاندلی کے الزام لگا رہی ہے، مولانا فضل الرحمان میرے چاروں سوالوں کا جواب دیں یا مجھے جیل لیکر جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں