سانحہ اے پی ایس میں ملوث کردار شاہانہ زندگی گزار رہا ہے، اے این پی
کوئٹہ : عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی بیان میں کہا گیا ہے کہ 16 دسمبر کو خون کی ہولی کھیل کر پھول جیسے بچوں کو ہم سے جدا کر دیا گیالیکن قتل میں ملوث کردار شاہانہ طرز زندگی گزار رہاہے پشتون خوا وطن مسلسل آگ خاک وخون میں جل رہا ہے سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہداکی چھٹی برسی کے موقع پر یہ عہد کرنا ہو گا کہ انتہا پسندی رجعت پسند ی دہشت گردی کے خاتمیاور اچھیاور برے دہشت گردکی تمیز کئے بغیر اور انکے مقامی سہولت کاروں کو کیفر کردار و نشان عبرت نہیں بنایا جائیگا اسی طرح کے انسانیت سوز واقعات ہوتے رہینگے نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے دہشت گردی کے شکار علاقوں میں امن کے قیام ترقی اور خوشحالی کے لئے اقدامات ہی درپیش مسائل کا واحد حل ہے جب تک اولس کی جان ومال کی تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جاتا امن وامان سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد اور سب اچھا کی رٹ عبث ہیں اے این پی کے صوبائی دفتر باچاخان مرکزسے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ چھ سال قبل آج ہی کے دن سفاک دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ کرکے بے گناہ، معصوم اور پھول جیسے بچوں اور بے گناہ انسانوں کو خون میں نہلادیا دہشت گردی کے واقعات اس کے بعد بھی رونما ہوتے رہے اور ان کے نتیجے میں معصوم و بے گنا ہ انسانوں کا خون بہتا رہا پشتون وطن پر آگ اور خون کے اس کھیل، دہشت گردی و انتہاپسندی اور مخصوص مائنڈ سیٹ کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ آواز بلند کی دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار بھی عوامی نیشنل پارٹی بنی آج بھی عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان اسد خان اچکزئی لاپتہ ہے ان کے متعلق پارٹی کارکنان کو کچھ نہیں بتایا جارہاجو اذیت کی نئی شکل ہے مگر اس کے باوجود کارکنوں کی حوصلے پست نہ ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد بھی افسوسناک واقعات کا سلسلہ جاری رہا اور اس کے نتیجے میں بے گناہ انسان قتل ہوتے رہے اگر نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جاتا تو شاید آج حالات مختلف ہوتے بیان میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے سانحہ اے پی ایس کے دردناک واقعہ میں ملوث کرداروں کو بے نقاب اور انکوقانون کی گرفت میں لاکران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیاتاکہ ہمارامستقبل ان سفاکانہ عملیات کی زد سے محفوظ ہوں۔


