بساک کے مرکزی عہدیداروں کے غیر آئینی اقدامات کیخلاف اپنی الگ آرگنائزنگ باڈی تشکیل دینگے، شکیل بلوچ
کوئٹہ : ڈاکٹر شکیل بلوچ ، حاجی حیدر بلوچ ، طارق بلوچ ودیگر نے کہا ہے کہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (بساک ) کے مرکزی عہدیداروں کی جانب سے غیر آئینی اقدامات کے خلاف وہ جلد ہی اپنی الگ مرکزی آرگنائزنگ باڈی تشکیل دے کر تعلیمی اداروں میں طلباء کے تعلیمی مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی جمہوری تنظیم میں آئین ایک ادنیٰ کارکن سے لے کر مرکزی چیئرمین تک سب پر برابر لاگو ہوتا ہے مگر بساک کی موجودہ مرکز کے سامنے آئین صرف ایک کاغذ کے ٹکرے کی حیثیت سے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ۔ کیڈر سازی اور کارکنوں کے تحفظات دور کرنے کے لئے تنظیموں میں عہدیدار اپنے عہدوں کو قربان کرنے تک سے نہیں کتراتے مگر یہاں موجودہ مرکزی چیئرمین ایک عہدیدار کے دفاع کے لئے سینکڑوں کارکنوں کو تنظیم کے کارکن ماننے سے انکار کررہا ہے جس کی واضح مثال گزشتہ مہینے اوتھل زون کے کارکنوں کا واک آئوٹ ہے اور جب کارکنوں نے واک آئوٹ کیا تو ان کے تحفظات دور کرنے کی بجائے کارکنوں کی ممبرشپ سے انکار کیا گیا تھا ۔ انہوں نے وہ بساک کے کاموں کو عملی جامہ پہنچانے کے لئے جلد مرکزی آرگنائزنگ باڈی تشکیل دیں گے اور ایک منظم تنظیم کی حیثیت سے تعلیمی اداروں میں طلباء کے تعلیمی مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے ۔


