چیئرمین نیب پیش نہ ہوئے تو گرفتار ہو سکتے ہیں، سلیم مانڈوی والا

لاہور: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال سینیٹ کمیٹی میں پیش نہ ہوئے تو قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انہیں پیش کرنے کے لیے وارنٹ جاری کیے جائیں گے۔ اگر ہر کوئی چور ڈاکو ہے ساری پارلیمنٹ گھر چلی جائے۔ استعفے دینے کا فیصلہ سیاسی جماعتوں کا ہے، اگر سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ یہ صحیح ہے تو ٹھیک ہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ نیب کی وجہ سے لوگ ملک چھوڑ کرچلے گئے ہیں۔اگر سب ڈاکو ہیں توپارلیمنٹ کو گھر بھیج دیا جائے اور تمام اداروں کا انچارج چیئرمین نیب کو بنا دیا جا ئے۔پارلیمنٹ کواپنا احتساب خود کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں فیصلہ کرتی ہیں کہ استعفے دینے ہیں تو انہیں کوئی روک نہیں سکتا اور یہ سیاسی نظام کا حصہ ہیں، دنیا بھر میں میں استعفے، تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی ہیں ہیں، پی ٹی آئی نے بھی اپوزیشن میں رہتے ہوئے استعفے دیے تھے جو بعد میں انہوں نے واپس لے لیے تھے اس میں کوئی غیر جمہوری بات نہیں ہے۔نہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کی ناکامی ہیکہ وقت پرنیب ترمیم نہیں لائے۔ سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ مارچ میں سینیٹرز ریٹائر ہوں گے تو نیا الیکشن شیڈول آئے گا، باقی جو مرضی کہتے رہیں۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کہتے ہیں کہ حکومت کے وزراء کہہ رہے ہیں ہم مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، ہر ادارے کو اپنے ملازمین کا خود احتساب کرنا چاہیے، اگر پارلیمنٹیرین پر الزام آئے گا تو پارلیمنٹ ان کا احتساب کرے، اگر ہر کوئی چور ڈاکو ہے ساری پارلیمنٹ گھر چلی جائے۔نیب قانون میں ترمیم کے بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نیب قوانین میں ترمیم کے لیے آرڈیننس لائی تھی جو بہت واضح تھا کہ نجی کاروبار اور بیوروکریسی سے نیب کا تعلق نہیں رہے گا لیکن اس میں اپوزیشن کو یہ اعتراض تھا کہ صرف ان دو شعبوں کو استثنیٰ کیوں دیا جارہا ہے لہٰذا اس پر کوئی اتفاق نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ اتفاق ہوجائے گا اور یہ قانون کی شکل اختیار کرلے گا جس کے بعد نیب صرف حکومت اور اپوزیشنکی بدعنونی تک محدود ہوجائے گا جس کے لیے اسے تشکیل دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کو میں نے کہتے ہوئے سنا کہ انڈر انوائسنگ کے کیسز ایف بی آر کو دیے جارہے ہیں تو سوال یہ ہے کہ یہ کیسز نیب کے پاس کیسے آئے، نیب کا تعلق کب سے درآمدات اور برآمدات سے ہوگیا، ہمارے پاس سینیٹ میں شکایتوں کی طویل فہرست بن چکی ہے، نیب کی وجہ سے لوگ ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ لوگوں پر اتنا دباو ڈالتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم آپکا کاروبار ختم کردیں گے،آپ کسی کمپنی کے ڈائریکٹر نہیں بن سکتے، ہم آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گے ہمارے ساتھ پلی بارگین کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آج بھی اس بات پر قائم ہوں کہ چیئرمین نیب کو سینیٹ میں طلب کیا جائے گا اور اگر وہ نہیں آتے تو قانونی اختیارات استعمال ہوں گے اور پیش کرنے کے وارنٹ جاری کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم نہ ہونا سیاسی جماعتوں کی ناکامی ہے، اگر وہ اپنے دور حکومت میں ترمیم کرلیتے تو آج یہ حال نہ ہوتا، سیاسی انتقام اپنی جگہ لیکن کاروبار افراد کا نیب سے کیا لینا ہے نجی پلاٹ بیچنے، ہاؤسنگ سوسائٹیز کو، ملک میں کچھ امپورٹ کرنے پر نیب کا نوٹس آجاتا ہے۔سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ سارے ادارے بند کر کے نیب کو ہر چیز کا انچارج بنادیں۔ #/s#

اپنا تبصرہ بھیجیں