کریمہ کے قتل کی مذمت،گوادر میں باڑ منصوبہ قبول نہیں، پرنس محی الدین بلوچ
قلات(بیورو رپورٹ)سابق وفاقی وزیر اور بلوچ رابطہ اتفاق تحریک کے سربراہ پرنس محی الدین بلوچ نیکہاہیکہ گوادر کے اطراف باڑ لگائی جارہی ہے جو ہم کسی طور پر برداشت نہیں کریں گے جبکہ ملکر ان گوادر کی زمینوں کو ہمارے ملازم غیروں کو دے رہے ہیں جس سے بلوچستان کے عوام میں سخت نفرت پھیل رہی ہے بلوچ رابطہ اتفاق تحریک کے سربراہ پرنس محی الدین بلوچ نے کہا ہے کہ سیاسی بحران مزید بڑھ گیا ہے اور یہ بات ارباب اختیار کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہمارے آباؤ اجراد نے خون دیکر بلوچستان حاصل کیا تھا اور اسلام کے نام پر ہم پاکستان آئے مگر جو صورتحال سامنے آرہی ہے اس سے صاف نظر آرہا ہے کہ بلوچ اور بلوچستان کوتباہی کی طرف لیجایا جارہا ہے پہلیمعدنی وسائل پر قبضہ کرکے لوٹ کھوٹ کی گئی اور اب ہماری زمینوں کو غیروں کو الاٹ کی جارہی ہے اس صورتحال کے پیش نظر بلوچستان کے عوام میں جو ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے وہ بھی خطرناک ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کار کنوں سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ حکومت اور ملک کے اہم افراد سے متعدد بار کہہ چکا ہوں کہ وہ ایک کنونشن بلائیں جس میں قبائلی شخصیات سیاسی سماجی قومی شخصیات دینی طلبہ اورنوجوان تنظمیوں کے زمہ داران کو کنونشن میں شرکت یقینی بنا کر بات کریں تجاویز لیں بھی اور دیں بھی اور میرا یقین ہے کہ کنونشن کے زریعہ بلوچستان کے مسائل حل ہو جائیں گے انہوں نے کہا ہے اس وقت یہ پتا نہیں چل رہا ہے کے حکو مت کون کر رہا ہے کون حکومت چلارہا ہے حکمران پارٹی کا پی ڈی ایم سے اختلاف چل رہا ہے اور کیا ہونے جارہا ہے کچھ صورتحال واضح نہیں ہورہی ہے جس سے عوام میں تحفظات بڑھ رہے ہیں انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین نے مہنگائی اور غربت کے خلاف احتجاج کیا جو عام لوگوں کی صورتحال بتارہی ہے اور اس وقت صورتحال ایک زمانہ میں ملک فرانس میں عوام مہنگائی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے تو ملکہ نے بادشاہ سے پوچھا ک کیا ہوا تو بادشاہ نے بتایا ک لوگ بھوک مررہے کھانے کو روٹی نہیں ہے تو ملکہ نے کہا کہ تو اگر روٹی نہیں ہے تو کیک کیوں نہیں کھاتے تو ہمارے ملک کی صورتحال بھی اسی طرح کی ہو گء ہے اسکے ساتھ پرنس محی الدین بلوچ اور بلوچ شعبہ خواتین کراچی کی رہنما بی بی فوزیہ بلوچ نے کینیڈامیں بلوچ خاتون رہنما بی بی کریمہ بلوچ کی پراسرار ہلاکت پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ بی بی کریمہ بلوچ نے خواتین کے لیے بڑی جدوجہد کی اور بلوچ خواتین کو بااختیار بنانے کے لئیے اہم کردار ادا کیا عالمی سطح پر کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ بی بی کریمہ بلوچ کی ہلاکت کی تحقیقات کرائیں تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ ان کی ہلاکت کیسے ہوئی انھوں نے کہا کہ بی بی کریمہ بلوچ کی ہلاکت کیحقائق منظر عام پر لائے جائیں


