جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرے کے حوالے سے حکمت عملی طے کرلی ہے، مولانا غفور حیدری
اسلام آباد :جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری نے کہاہے کہ 19جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرے کے حوالے سے حکمت عملی طے کرلی ہے،عمران خان کی بات مودی کی جیت اور 3 حصوں میں کشمیر کو تقسیم کرنے کا فارمولا سب کے سامنے ہے، پانچ فروری کو کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرینگے،چھ جنوری کو بنوں اور تیرہ جنوری کو لورالائی میں ریلی نکالی جائیگی، پی ڈی ایم کی قیادت شرکت کریگی،ریاست مدینہ کے دعویداروں نے چادر اور چار دیواری کو پامال کرتے ہوئے مفتی کفایت اللہ کے گھر پر چھاپہ مارا،نیب انصاف کا ادارہ نہیں، احتساب کا ادارہ نہیں انتقامی ادارہ ہے، اپنی بات پر قائم ہوں،پہلے ہم 15 لاکھ لائے تھے اب ہم 25 لاکھ لوگ اسلام آباد لائینگے۔ پیر کو جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ جے یو آئی صوبہ اسلام آباد کا اجلاس منعقد ہوا،اجلاس کا مقصد 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کو التوا کرنے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کرنا ہے،اس مظاہرے کو کامیاب بنانے اور حکمت عملی وضع کرنے کے لیے اجلاس بلایا گیا۔ انہوں نے بتایاکہ پی ڈی ایم فیصلے کے مطابق 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہوگا،اس احتجاج کو کامیاب بنانے کے لئے جے یو آئی ہراول دستے کا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد سمیت 5 فروری کو کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم جماعتوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ مل کر یوم یکجہتی کشمیر منایا جائے،ہمارے حکمرانوں نے بغیر کسی جھگڑے کے کشمیر کو بھارت کے حوالے کردیا۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان کی بات مودی کی جیت اور 3 حصوں میں کشمیر کو تقسیم کرنے کا فارمولا سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ کے دورے کے دوران ٹرمپ نے عمران خان کو واضح کردیا کہ کشمیر بھارت کے حوالے کردیا گیا تم نے شور مچانا ہے نا جنگ کی طرف جانا ہے،فلسطین کی مقدس سرزمیں کو اسرائیل کے حوالے کردیا ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے پاکستان میں بھی ہوم ورک ہورہا ہے،لورالائی میں 13 جنوری کو بڑی ریلی نکالی جائیگی جس میں پوری پی ڈی ایم شرکت کرے گی،انہوں نے کہاکہ 6 جنوری کو بنوں میں بڑی ریلی کا انعقاد کیا جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ مفتی کفایت اللہ کے گھر چھاپہ مار کر ان کے چھوٹے بیٹے سمیت گھر کے دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،ریاست مدینہ کے دعویداروں نے چادر اور چار دیواری کو پامال کردیا ہے،کہتے ہیں ریٹائرڈ فوجی افسران کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے حالانکہ خود عمران خان نے حاضر سروس افسران کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں ایک نہتے طالب علم کو نشانہ بنا دیا گیا، یہ بھی عمران حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے،ایک نہتے طالب علم پر 22 فائر کھول دیئے گیے مگر پھر بھی آپ امن کے دعویدار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مچھ میں انتہائی افسوسناک سانحہ ہوا ہے جس کی مذمت کرتے ہیں،وندر میں راہ چلتے لوگوں پر حملہ کیا گیا کئی لوگوں کی شہادت اور زخمیوں کی اطلاعات ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ نیب انصاف کا ادارہ نہیں، احتساب کا ادارہ نہیں انتقامی ادارہ ہے، اپنی بات پر قائم ہوں۔ انہوں نے کہاکہ نا انصافیون کا خاتمہ نہ ہوا تو شاید ہم جی ایچ کیو کی طرف رخ کریں، اس بات پر قائم ہوں،ہم سمجھتے ہیں ان انتقامی کارروائیوں کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ ہے،اب تک کے پی ڈی ایم کے فیصلے اتفاق رائے سے ہوئے ہیں،پنڈی اسلام آباد سے دور نہیں ہے ایک ہی لخت میں پہنچا جاسکتا ہے۔ایک سوا ل پر انہوں نے کہاکہ اسرائیل کو جو مرضی تسلیم کرلے اس کی متنازعہ حیثیت ختم نہیں ہوسکتی،ہمیں کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہے، اگر ادارے ہم پر حملہ نہ کریں تو کوئی اور نہیں کرسکتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے ہم 15 لاکھ لائے تھے اب ہم 25 لاکھ لوگ اسلام آباد لائینگے۔ انہوں نے کہاکہ مشرف کا ساتھ ہم نے نہیں دیا، ہم اس کے خلاف تحریک میں سب سے آگے رہے۔


