کوئٹہ شہر میں منشیات فروشی عروج پر، کارروائی کا مطالبہ
کوئٹہ:شہر کے دکانداران وتاجران حاجی لال محمد،حاجی خدائے نظر،ملک امین اللہ،حاجی دلارام،کان محمد دکاندارا،خدائے نور اور تمام کاروباری حضرات نے اپنے بیان کے ذریعے گورنر بلوچستان،کور کمانڈر بلوچستان،وزیرا علیٰ اور چیف جسٹس آف بلوچستان کی وجہ شہر کی طرف مبذول کراتے ہوئے اپیل کی ہے کہ ہم میزان چوک کوئٹہ کے دکانداران اور مین بازار کے کاروباری حضرات شہر کے وسط میں آباد نشے کے ٹھکانوں اور اس میں موجود نشہ فروخت کرنے والوں سے بہت تکلیف اور نقصانات سے دو چار ہیں ہم نے ان کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست بار بار کی ہے مگر کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی انہوں نے حکام سے پر زور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب نشئی افراد اور نشہ بھیجنے والوں نے میزان چوک سبزی منڈی کوئٹہ سے کچھ آگے جا کر ٹیکسی اسٹینڈ مین سٹی نالہ میں اپنے نشے کا بڑا مرکز اور ٹھکانہ آباد کیا ہوا ہے اور بڑے پیمانے پر اپنے نشے کا کاروبار کررہے ہیں اس کے ساتھ ٹیکسی اسٹینڈ مین نالہ میں منشیات فروش اسلحہ کے ساتھ موجود ہیں اور شہر اور دکانداران سے چوری کئے گئے سامان اور چیزوں کا خرید وفروخت بھی اسی مین سٹی نالہ میں ہی کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ جب ہم نے ایک شہری کی حیثیت سے ان نشہ بھیجنے والوں کو منع کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے ہم پر اسلحہ کے زورپر بد معاشی کرنے کے ساتھ دھمکی دیتے ہوئے یہ کہا کہ کوئی ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ ہم محکمہ پولیس،محکمہ ایکسائز اور محکمہ نارکوٹکس کو ہفتہ وار ساٹھ ہزار روپے دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے حکام بالا سے یہ درخواست ہے کہ وہ اپنے خفیہ ذرائع کے ذریعے ان محکموں اور انتظامیہ کے افراد کی چھان ب ین کرائین اس کے ساتھ اسی ٹیکسی اسٹینڈ مین سٹی نالہ میں بڑے پیمانے پر نشے کا کاروبار اور پورے کوئٹہ شہر کو نشے کا زہر سپلائی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کر کے قانونی سزا دینے اور کوئٹہ شہر کے وسط میں موجود نشے کے اس برے اور کھلے عام چلنے والے ٹھکانے کو مستقل طور پر ختم کرنے کے احکامات کر کے ہمیں،ہمارے کوئٹہ شہر اور ہمارے نوجوانوں کو غضب سے نجا دلا یا جائے۔


