گریشہ،2013 کے زلزلے میں متاثرہ سکول کی عمارت بحال نہ ہوسکی

نال : رُژن لوکل سپورٹ آرگنائزیشن گریشہ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بہاڑی اور ترکو گریشہ کی پرائمری اسکولوں کےعمارت 2013 کی زلزلہ میں منہدم ہوکر تاحال فعال نہ ہوسکے، اس جدید دور میں دنیا مریخ تک جا پہنچا ہے لیکن گریشہ کے بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔

پورے گریشہ میں تعلیم کی فقدان اسکولوں کی حالت زار ہے اساتذہ کی شدید قلت ہے اگرکسی اسکول میں ہے وہ بھی اپنی فرض ایمانداری سے نہیں نبھا رہے ہیں وفاقی حکومت ثانوی تعلیم کو مفت کرانے کی پروان چڑھا رہے ہیں لیکن گریشہ کے باشندوں کے بچے پرائمری تعلیم حاصل نہ کرسکے

اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے کہاہے کہ اسکولوں کی حالت زار نہایت ہی تشویشناک ہے ، ہم حکومت بلوچستان اور اعلیٰ حکام سے التماس کرتے ہیں کہ گریشہ میں تعلیم ایمرجنسی کو ختم کرکے بہاڑی اور ترکو گریشہ کےاسکولوں کی عمارت کو تعمیر کرکے درس و تدریس کو بحال کی جائے اگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوا تو تنظیم احتجاج کرنے کا جمہوری حق محفوظ رکھتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں