شاہراہوں کیلئے مختص 12ارب روپے میں پشتون علاقوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے، عثمان کاکڑ

کوئٹہ:پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر و سینیٹر عثمان کاکڑ نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے پشتون علاقوں میں قومی شاہراہوں کیلئے فنڈز مختص نہ کر نے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے شاہراہوں کے لئے 12ارب روپے میں سے ایک ارب روپے بھی پشتون علاقوں کے شاہراہوں کے لئے مختص نہ کرنا وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ناروا اور معتصبا نہ روئیے کا مظہر ہے، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اس پر خاموش نہیں رہے گی اور ہر فورم پر احتجاج کیا جائے گا، سلیکٹڈ حکومت کے دور میں کرپشن میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے صوبے کی شاہراہوں کے 12منصوبوں کے لئے 12ارب روپے کی منظوری دی ہے جن میں پشتون علاقوں کو مکمل نظر انداز کیا گیاہے ہم حکمرا نوں کے متعصبانہ رویہ کی مذمت کرتے ہیں جنہوں نے جان بوجھ کر پشتون علاقوں کو ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز کردیا ہے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اس سلسلے میں خاموش نہیں رہے گی، سینٹ سمیت تمام پلیٹ فارمز پر اس معتصبانہ فیصلوں کے خلاف احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب، خیبرپشتونخوا اور اسلام آباد سے مسافر اور ٹرانسپورٹر پشتون علاقوں سے ہوتے ہوئے سندھ اور ملک کے دیگر حصوں کو جاتے ہیں لیکن کوئٹہ ژوب، کوئٹہ لورالائی اور کوئٹہ چمن قومی شاہراہوں کو نظر انداز کرنا بدنیتی کی انتہاء ہے۔ انہوں نے کہاکہ اکثر اوقات انہی شاہراہوں پر حادثات ہوتے ہیں۔ سلیکٹڈ وفاقی و صوبائی حکومتیں اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ انہوں نے کہاکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں موجودہ حکومت سے متعلق واضح ثبوت ہے کہ ملک میں کرپشن کی شرح بڑھی ہے اور آئندہ ایک دو سالوں میں اس میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ نااہل اور سلیکٹڈ حکومت کی جانب سے صرف اور صرف اپوزیشن کے رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنا کر اپنی ہی کرپشن چھپانے کی کوششیں جاری ہیں۔ پی ڈی ایم کی جانب سے جو بھی فیصلہ کیا جائے گا اس کی تائیدکریں گے، ضمنی انتخابات میں پشتونخوا میپ نے جمعیت علماء اسلام کے امیدوار کی حمایت کی ہے، 16فروری کو کامیابی ہماری ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں