کیچ میں لوگوں کی جبری گمشدگیاں پہلے سے المیہ ہیں، اب اغوا برائے تاوان کا مکروہ سلسلہ شروع ہوگیا ہے، ڈاکٹر مالک
تربت (رپورٹ: زاہد حسین) ضلع کیچ میں بڑھتی ہوئی بدامنی، لا قانونیت، اغوا برائے تاوان، چوری، ڈکیتی اور قتل و غارتگری کے خلاف آل پارٹیز کیچ کے زیر اہتمام تربت میں ایک اہم پریس کانفرنس منعقد ہوئی۔ پریس کانفرنس سے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان، مرکزی صدر نیشنل پارٹی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے)، کیچ بار ایسوسی ایشن، بلوچستان بار کونسل، میونسپل کارپوریشن، انجمن تاجران کیچ، سول سوسائٹی، ٹرانسپورٹر یونین، طلباءتنظیمیں، ڈسٹرکٹ کونسل کے معززین، پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن، بلوچستان نیشنل الائنس، شاعر و ادیب اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر ضلع کیچ میں اغوا برائے تاوان کا مکروہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جبری گمشدگیاں تو پہلے سے ایک المیہ رہی ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں ڈاکٹر یاسین اور گل جان کے خاندان کے دو افراد کو اغواءکیا گیا ہے۔ اغواءہونے والوں میں حسیب یاسین ولد یاسین اور شاہ نواز ولد گل جان شامل ہیں، جنہیں چند دن قبل اغواءکیا گیا اور اغواءکاروں کی جانب سے بھاری تاوان طلب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان اس قابل نہیں کہ اتنی بڑی رقم ادا کر سکیں۔ ہم نے ہر ممکن کوشش کی، آئی جی پولیس، آئی جی ایف سی اور تمام متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا، مگر تاحال کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں کسی بھی فون کو ٹریس کرنا کوئی مشکل کام نہیں، اس کے باوجود اغواءکاروں کا سراغ نہ لگایا جانا لمحہ فکر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ غمزدہ لواحقین جو بھی لائحہ عمل اختیار کریں گے، آل پارٹیز کیچ ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نیا چیپٹر کھولا جا رہا ہے جس میں لوگوں کو اغواءکر کے بھاری رقم لے کر چھوڑ دیا جاتا ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر آل پارٹیز نے احتجاجی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 5 جنوری کو ضلع کیچ میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا جائے گا، جبکہ 7 جنوری کو سڑکیں بند کر کے بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا، تاکہ حکام کو عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری کا احساس دلایا جا سکے۔


