فوجی مقامات واپس لینے کیلئے پرامن کارروائی شروع کی جائے گی، یمنی حکومت

ثنا (مانیٹرنگ ڈیسک) یمن کے صوبے حضرموت کے سعودی حمایت یافتہ گورنر نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں فوجی مقامات واپس لینے کے لیے ایک پرامن کارروائی شروع کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام صرف فوجی ٹھکانوں تک محدود ہوگا اور اسے جنگ کا اعلان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ دونوں ممالک اس جنگ زدہ ملک میں مختلف دھڑوں کی حمایت کر رہے ہیں اور دسمبر سے کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یمنی حکومت نے حضرموت کے گورنر سالم احمد سعید الخنباشی کو مشرقی صوبے میں ہوم لینڈ شیلڈ فورسز کا کمانڈر تعینات کر دیا ہے، جس کے تحت انہیں فوجی، سیکورٹی اور انتظامی معاملات پر مکمل اختیار دے دیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد صوبے میں امن و امان بحال کرنا ہے۔ گورنر کا کہنا ہے کہ کارروائی صرف ان فوجی مقامات کے دفاع اور واپسی تک محدود رہے گی جن پر متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے قبضہ کیا تھا۔ سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے حال ہی میں جنوبی یمن کے کئی علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، جسے سعودی حمایت یافتہ حکومت نے اپنے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں