کوئٹہ سے اندرون صوبہ جانے والی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود کمی نہیں کی گئی

کوئٹہ (آن لائن) کوئٹہ سے اندرون صوبہ جانے والی ٹرانسپورٹ کے کرایوںمیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود کمی نہیں کی گئی جبکہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 روپے فی لیٹر کمی کی گئی کوئٹہ سے جیکب آباد کا کرایہ 800 روپے جبکہ منی وین سروسز 1000 روپے وصول کررہی ہے۔ اور ٹرانسپورٹروں نے کمی کی بجائے 100 روپے کرایہ میں اضافہ کردیا اس کے علاوہ جیکب آباد جانے والی گاڑیاں 1300 روپے وصول کررہی ہے۔ کوئٹہ سے مچھ، ڈھاڈر، سبی ، بختیار آباد، نوتال، ڈیرہ مراد جمالی، ڈیرہ اللہ یار کے مسافروں سے ایک ہی کرایہ وصول کیا جارہا ہے محکمہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے ٹرانسپورٹروں کو کرایہ نامہ نہیں دیا گیا اور نہ ہی کسی وین اور کوچ میں کرایہ نامہ آویزاں نہیں اس کے علاوہ اندرون صوبہ جانے والی گاڑیوں میں فرنٹ سیٹ کا 3 ہزار اور پچھلی سیٹ کا 2 ہزار روپے اسی طرح ٹوڈی سروس میں بیک سیٹ پر 4مسافروں کو بیٹھاتے ہیں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ، صوبائی سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی سیکرٹری آرٹی اے ان بڑھتے ہوئے کرایوں اور مسافروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا نوٹس لے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں