بدقسمتی سے ماہ رنگ بلوچ کو انتہا پسندوں نے شیلڈ بنا رکھا ہے، عبدالرحمان کھیتران
ویب ڈیسک :سردار عبدالرحمان کھیتران نے عالمی ادارے کو انٹرویودیتے ہوئے کہا ہے کہ میں بھی سردار ہوں میرا علاقہ بارکھان ہے وہاں بی ایل اے نے دو بار واردات کی میں نے منہ توڑ جواب دیا اب وہ اس طرف دیکھتے بھی نہیں کون سا سردار ہے جو ان کی حمایت کر کے ریاست کے ساتھ دشمنی کرے گا؟ ترقی کا مخالف کوئی سردار نہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ماہ رنگ بلوچ جیسی خواتین کو ان انتہا پسندوں نے شیلڈ بنا رکھا ہےوہ سرداری نظام کی مخالفت اور حقوق بلوچستان کے نام پر بلوچستان مخالف ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں ہم کہتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرو نوکریوں کے لیے امتحان دو تو کون روکتا ہے؟ کون انہیں تعلیم حاصل کرنے یا نوکری کرنے سے منع کرتا ۔ لیکن وہ کون سے حقوق مانگ رہے ہیں۔ان کے مطابق بلوچستان بہت بڑا صوبہ ہے جہاں ابادی کم لیکن فاصلے زیادہ ہیں ایک ہزار ارب سالانہ ترقیاتی بجٹ میں سے اٹھ سو ارب تک سکیورٹی معاملات پر خرچ ہوجاتا ہے تو دو سو ارب روپے سے کتنی ترقی ہو سکتی ہے؟ ہماری ترقی کا دشمن کوئی اور نہیں ہم خود ہیںٹرینوں پر حملے سکولوں اور ہسپتالوں کو تباہ کرنا سڑکیں بنانے والوں کو اغوا کرنے سے وہاں کیا ترقی ہوگی؟سردار عبدالرحمن کھیتران نے مزید کہاہے کہ افغانستان کا بارڈر بند ہونے سے معاشی نقصان اپنی جگہ لیکن دہشت گردی اور سمگلنگ میں بہت کمی ہوئی ہے اس طرف سے نہ اسلحہ اسکتا ہے نہ ہی سمگلنگ ہوسکتی ہے جس سے انتہا پسندی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت بھی ختم ہورہی ہے۔


